سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 326
٣٢٦ قرار دیتی ہیں اور رسول کا صرف یہ کام بتاتی ہیں کہ وہ اپنی تعلیم کو کھول کھول کر لوگوں کو سنادے۔آگے ماننا نہ ماننا لوگوں کا اپنا کام ہے۔اب کیا یہ ممکن ہے کہ اس صریح اور واضح تعلیم کے ہوتے ہوئے جو بانگ بلند دن رات لوگوں کو سنائی جاتی تھی اور جس کی طرف کفار کو بلایا جاتا تھا۔خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ لوگوں کو جبراً مسلمان بنانے کے لئے تلوار ہاتھ میں لے کر نکلتے۔اور پھر کیا اس صورت میں کفار یہ اعتراض نہ کرتے کہ تم اپنے خدا کا کلام تو جبر کے خلاف سناتے ہواور خود جبر کرتے ہومگر تاریخ سے ثابت ہے کہ کفار کی طرف سے کبھی یہ اعتراض نہیں ہوا۔حالانکہ ان کی عادت تھی کہ خوب جی کھول کھول کر آپ کے خلاف اعتراض کیا کرتے تھے اور ان کے اعتراضات قرآن کریم اور کتب حدیث و تاریخ میں کثرت کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔آغاز جہاد کے وقت مسلمانوں کی حالت جبر کے خیال کی مکذب ہے پھر ہم دیکھتے ہیں کہ جس وقت مسلمانوں کی طرف سے جہاد کا آغاز ہوا اس وقت ان کی جو حالت تھی وہ بھی جبر کے خیال کو جھٹلاتی ہے۔بھلا گنتی کے چند لوگ جن کے خلاف گویا سارا ملک ہتھیار بند تھا اور جن کا یہ حال تھا کہ خوف کے مارے ان کو رات نیند نہیں آتی تھی وہ جبر کے خیال سے جنگ شروع کر سکتے ہیں؟ ایسی حالت میں تو صرف وہی شخص لڑائی کے لئے نکل سکتا ہے جو یا تو یہ سمجھتا ہو کہ اب موت سے بچنے کا اگر کوئی ذریعہ ہے تو یہی ہے کہ خود حفاظتی کے لئے تلوار نکال لی جاوے اور یا وہ یہ خیال کرتا ہو کہ اب مرنا تو ہے ہی کیوں نہ مردوں کی طرح میدان جنگ میں جان دی جاوے۔ان دوغرضوں کے سوا کسی اور غرض کے لئے کوئی شخص جو مجنون نہیں ہے اس حالت میں لڑائی کے لئے نہیں نکل سکتا جو اس وقت مسلمانوں کی تھی۔اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمانوں کی ابتدائی لڑائیاں دفاع اور خود حفاظتی کے لئے تھیں نہ کہ جبر اور تشدد کی غرض سے۔کبھی کوئی شخص جبراً مسلمان نہیں بنایا گیا پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اگرآ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی یہ لڑائیاں لوگوں کو جبراً مسلمان بنانے کی غرض سے تھیں تو تاریخ سے ہمیں ایسے لوگوں کی مثالیں نظر آنی چاہئیں جو بزور مسلمان بنائے گئے آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے ہزاروں مسلمانوں اور کافروں کے نام تاریخ میں محفوظ ہیں کوئی ایک مثال تو ایسے شخص کی ملنی چاہئے جسے تلوار کے زور سے مسلمان بنایا گیا ہو۔یہ ایک حقیقت ہے کہ تاریخ میں کوئی ایک مثال بھی جبری تبلیغ کی نظر نہیں آتی۔ہاں دوسری طرف ایسی مثالیں