سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 327 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 327

۳۲۷ تاریخ سے ثابت ہیں کہ عین لڑائی کے دوران میں کسی مشرک نے اسلام کا اظہار کیا لیکن مسلمانوں نے اس خیال سے کہ یہ شخص ڈر کر اسلام کا اعلان کر رہا ہے اور اس کے اسلام کے اظہار کے ساتھ دل کی تصدیق شامل نہیں ہے اس کے اسلام کو اسلام نہیں سمجھا اور اسے تلوار کی گھاٹ اتار دیا۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ ایک لڑائی میں اسامہ بن زید جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کے صاحبزادے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت عزیز تھے ایک کافر کے سامنے ہوئے۔جب اس کا فر نے دیکھا کہ اسامہ نے اس پر غلبہ پالیا ہے تو کہنے لگا کہ میں مسلمان ہوتا ہوں لیکن اسامہ نے اس کی پروا نہ کی اور اپنا نیزہ چلا دیا۔جب لڑائی کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس واقعہ کا ذکر ہوا تو آپ اسامہ پر سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ جب وہ شخص اسلام کا اظہار کرتا تھا تو تم نے اسے کیوں مارا؟ اسامہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ ڈر کے مارے ایسا کہتا تھا اور دل میں مسلمان نہیں تھا۔آپ نے فرمایا ” کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا؟ یعنی بالکل ممکن ہے کہ اسی وقت اس پر اسلام کی صداقت کھل گئی ہو اور وہ دل سے مسلمان ہو گیا ہو۔مثلاً ایسا ہو سکتا ہے کہ اس نے اپنے دل میں فیصلہ کا یہ معیار رکھا ہو کہ اگر میں لڑائی میں غالب آ گیا تو معلوم ہوگا کہ ہمارے بت جن کے لئے لڑ رہا ہوں سچے ہیں لیکن اگر میں مغلوب ہو گیا تو ثابت ہوگا کہ خدا ایک ہے۔بہر حال اس کا میدان جنگ میں مسلمان ہونا اس بات کا یقینی ثبوت نہیں تھا کہ وہ ڈر کر مسلمان ہوتا ہے۔پس جب اس بات کا امکان تھا کہ وہ دل سے مسلمان ہوتا ہے تو اسامہ کو اپناہاتھ روک لینا چاہئے تھا اور اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ناراض ہوئے اور اسامہ روایت کرتے ہیں کہ آپ مجھ پر اس قدر ناراض ہوئے کہ میں نے یہ تمنا کی کہ کاش میں اس واقعہ سے پہلے مسلمان ہی نہ ہوا ہوتا اور اب اس کے بعد مسلمان ہوتا تا کہ آپ کی یہ نا راضگی میرے حصہ میں نہ آتی ہے پھر تاریخ میں ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ اگر کسی وجہ سے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوکسی شخص کے متعلق یہ علم ہو گیا ہے کہ وہ دل سے مسلمان نہیں ہوا بلکہ محض ڈریا طمع کی وجہ سے ایسا کر رہا ہے تو آپ نے اس کا اسلام قبول نہیں فرمایا۔چنانچہ صحیح مسلم میں ایک روایت آتی ہے کہ کسی لڑائی میں صحابہ نے ایک ایسے کافرکو قید کیا جو بنو ثقیف کے حلیفوں میں سے تھا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس قیدی کے پاس سے گزرے تو اس نے قید سے رہائی پانے کے خیال سے کہا کہ اے محمد! مجھے کیوں قید میں رکھا جاتا ہے میں تو مسلمان ہوں۔آپ نے فرمایا۔اگر تم اس حالت سے پہلے اسلام لاتے تو خدا کے حضور یہ اسلام مقبول ہوتا ل : مسلم کتاب الایمان