سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 325 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 325

۳۲۵ کہ دین کے معاملہ میں جبر نہ ہونا چاہئے انصار کو منع فرمایا کہ ایسا نہ کریں۔پھر حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت کے متعلق وثیق رومی کی ایک روایت آتی ہے کہ كُنتُ مَمْلُوكًا لِعُمَرَ فَكَانَ يَقُولُ أَسْلِمُ۔۔۔۔۔قَالَ فَأَبَيْتُ فَقَالَ لَا إِكْرَاهَ فِى الدِّينِ فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ اعْتَقَنِي فَقَالَ اذْهَبُ حَيْثُ شِئْتَ يَا یعنی وثیق رومی روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت میں میں ان کا غلام ہوتا تھا۔آپ مجھ سے فرماتے رہتے تھے کہ مسلمان ہو جاؤ مگر میں انکار کرتا تھا اور حضرت عمر یہ کہہ کر خاموش ہو جاتے تھے کہ اچھا لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ یعنی دین کے معاملہ میں جبر جائز نہیں ہے۔“ پھر جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے مجھے خود بخود آزاد کر دیا اور فرمایا اب جہاں چاہتے ہو چلے جاؤ۔پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے: قُلْ لِلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ وَالْأَمِينَ أَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا ۚ وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَاعُ وَاللهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِي : یعنی اے رسول! کہہ دے اہل کتاب اور مشرکین سے کہ کیا تم اسلام کو قبول کرتے ہو؟ یعنی ان کو اسلام کا پیغام پہنچا دے۔پھر اگر وہ اسلام کو قبول کر لیں تو جانو کہ وہ ہدایت پاگئے، لیکن اگر وہ تیری دعوت کو رد کر دیں تو تیرا کام تو صرف پیغام کا پہنچا دینا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خود دیکھ رہا ہے۔“ قرآن شریف کی یہ آیات جن کو میں نے ان کے نازل ہونے کی تاریخ کے مطابق ترتیب کے ساتھ درج کیا ہے اس بات کا ایک قطعی ثبوت ہیں کہ اسلامی تعلیم کی رو سے دین کے معاملہ میں جبر کرنا جائز نہیں ہے بلکہ اسلام نے دین کے معاملہ کو ہر شخص کے ضمیر پر چھوڑ دیا ہے کہ جس مذہب کو کوئی شخص اپنے لئے پسند کرے اختیار کرے۔ان آیات میں سے سورۃ کہف کی آیت مکی زمانہ کی ہے۔سورۃ یونس کی آیت بعض محققین کے نزدیک مکی زمانہ کے آخری ایام کی ہے اور بعض کے نزدیک مدنی ہے۔سورۃ بقرۃ کی آیت مدینہ کے ابتدائی سالوں کی ہے جبکہ اسلامی جنگوں کا آغاز ہوا تھا اور سورۃ آل عمران کی آیت مدینہ کے آخری زمانہ کی ہے جبکہ مکہ اور طائف وغیرہ فتح ہو چکے تھے اور عرب کی جنگوں کا قریباً خاتمہ تھا۔گویا یہ مختلف آیات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے مختلف زمانوں میں نازل ہوئی تھیں اور آخری آیت آپ کی وفات کے قریب نازل ہوئی تھی اور یہ ساری آیات قطعی اور یقینی طور پر جبری اشاعت کو ممنوع عوارف بروایت ازالة الخفاء عن خلافة الخلفاء : سورة آل عمران : ۲۱