سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 161 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 161

171 پوچھیں گے کہ یہ نیا نبی کون ہے اور کیا کہتا ہے اس لیے ہمیں باہم مشورہ سے کوئی جواب سوچ رکھنا چاہئے تا کہ ہمارا آپس کا اختلاف کوئی برا اثر پیدا نہ کرے؛ چنانچہ سب روساء قریش ولید بن مغیرہ کے مکان پر جمع ہوئے اور ولید نے ان کے سامنے ایک افتتاحی تقریر کر کے ساری بات سمجھائی اور بتایا کہ اب حج کا وقت آ رہا ہے اور محمد کے اس دعویٰ کی خبر باہر پہنچ چکی ہے اور لازماً حج پر آنے والے لوگ ہمیں اس کے متعلق پوچھیں گے۔پس ہمیں چاہئے کہ ہم باہم مشورہ سے کوئی ایک پختہ جواب سوچ رکھیں تا کہ ایسا نہ ہو کہ ہم ایک دوسرے کے خلاف باتیں کہ کر خود اپنے اثر کو مثالیں۔اس پر ایک شخص بولا کہ ہمارا جواب صاف ہے کہ یہ شخص ایک کا ہن ہے اور کاہنوں کی سی باتیں کر کے اس نے چند لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔ولید نے کہا کہ ہم اسے کا ہن کس طرح کہہ سکتے ہیں جب کہ اس میں کا ہنوں کی کوئی بات بھی نہیں پائی جاتی۔نہ کا ہنوں کا سانتر نم ہے اور نہ کا ہنوں کا سامخصوص انداز بیان۔دوسرے نے کہا کہ پھر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ محمد مجنون ہے اور اپنے جنون کے جوش میں باتیں کرتا رہتا ہے۔ولید نے کہا۔ہماری یہ بات کون مانے گا۔اور جنون کی وہ کونسی علامتیں ہیں جو ہم محمد میں دکھا سکیں گے۔نہ اس میں وہ وحشت ہے اور نہ وہ اضطراب اور نہ ہی وہ وسوسہ جو ایک مجنون میں لازماً پائے جاتے ہیں۔پھر ہمارے جنون کے ادعا کوکون سنے گا۔تیسرا بولا کہ پھر ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ یہ شخص شاعر ہے اور اپنے جادُ واثر اشعار سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ولید نے کہا ہم اسے شاعر کہہ کر اس کے کلام میں شعر کے خصائص از قسم رجز اور ہرج اور قریض اور مقبوض اور مبسوط کہاں سے دکھا ئیں گے۔اس پر ایک چوتھا شخص بولا کہ اسے ایک ساحر کے طور پر پیش کرنا چاہئے۔ولید نے کہا پھر ہم اس میں ساحروں کی سی پھونکیں مارنا اور گر ہیں ڈالنا اور گر ہیں کھولنا کس طرح دکھا ئیں گے۔لوگوں نے کہا تو پھر اے عبدشمس تم ہی بتاؤ کہ پھر ہمیں کیا کہنا چاہئے۔ولید نے کہا اس معاملہ میں میں خود حیران ہوں کہ کیا کیا جائے۔جو بات بھی سوچتا ہوں وہ محمد پر چسپاں ہوتی نظر نہیں آتی اور ایسی بات کہنا جس سے لوگوں کو تسلی نہ ہو خود اپنے آپ کو نسی کا نشانہ بنانا ہے۔اس طرح اس مجلس میں کچھ عرصہ باتیں ہوتی رہیں۔آخر یہ مشورہ قرار پایا کہ اور کوئی بات تو خیال میں آتی نہیں اور جو باتیں پیش کی گئی ہیں ان میں ساحر والی زیادہ وزن دار ہے۔پس یہ فیصلہ ہوا کہ حج کے موقع پر باہر سے آنیوالے لوگوں کے سامنے محمد کے متعلق سب لوگ یہی کہیں کہ یہ ایک ساحر ہے جو اپنی مخفی سحر کاری سے باپ کو بیٹے سے ، بھائی کو بھائی سے، خاوند کو بیوی سے جدا کرتا چلا جا رہا ہے؛ چنانچہ جب حج کا موقع آیا تو قریش کے ا : یہ شعراء عرب کی اصطلاحیں تھیں۔