سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 162
۱۶۲ بچہ بچہ کی زبان پر یہی فقرہ تھا کہ محمد تو ایک ساحر ہے جو جس گھر میں داخل ہوتا ہے انشقاق واختلاف کا بیج بو کر نکلتا ہے اور ان کے اس پروپیگنڈا نے تمام قبائل عرب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے خلاف ایک خطرناک ہیجان پیدا کر دیا۔قریش نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ مکہ کے اوباشوں اور خود سر لوگوں کو اکسایا کہ وہ جس طرح بھی ہو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تنگ کرتے رہیں؛ چنانچہ اس انگیخت میں آ کر شہر کے آوارہ مزاج لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آپ کے سامنے بھی اور پیچھے بھی طرح طرح کی بکواس کرتے رہتے تھے جس کی غرض سوائے دل دکھانے اور اشتعال پیدا کر کے فساد برپا کرنے کے اور کچھ نہ تھی۔جولوگ آپ کے پڑوس میں رہتے تھے ان کا یہ معمول تھا کہ آپ کے گھر میں پتھر پھینکتے۔دروازے پر کانٹے بچھاتے۔گھر کے اندر گندی اور بد بودار چیزیں لا کر ڈال دیتے اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان چیزوں کی وجہ سے عملاً کوئی تکلیف پہنچتی تو وہ خوش ہو کر بنتے اور قہقہے لگاتے۔ایک دفعہ کسی شخص نے ایک نہایت گندی اور متعفن چیز آپ کے گھر میں پھینک دی۔آپ خود اُسے اُٹھا کر باہر لائے اور فرمایا۔اے بنو عبد مناف ! یہ تم اچھا ہمسائیگی کا حق ادا کرتے ہو۔مگر جن کانوں تک یہ آواز پہنچتی وہ شرافت کی اپیل کے لئے بالکل بہرے تھے۔انہی دنوں میں قریش نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بجائے محمد کے مُدمم یعنی بدنام اور مذمت شدہ کہہ کر پکارا جاوے؛ چنانچہ کچھ عرصہ تک مکہ میں اس نام کا چرچا رہا اور قریش کو اتنی بھی شرم نہ آئی کہ یہ وہی شخص ہے جسے ہم اس کے دعوئی سے پہلے امین کہہ کر پکارتے رہے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اس فعل سے اطلاع ہوئی تو آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ میرا نام تو محمد ہے اور جو محمد ہو وہ مُذَمَّم کیسے ہوسکتا ہے۔دیکھو خدا مجھے ان کی گالیوں سے کس طرح محفوظ رکھتا ہے۔مگر اس زمانہ میں بھی قریش کی ایذاء رسانی صرف زبانی باتوں تک محدود نہ تھی بلکہ وہ بعض اوقات جوش میں آکر یا موقع نکال کر آپ کو عملی نقصان پہنچانے اور جسمانی تکلیف میں مبتلا کرنے سے بھی دریغ نہ کرتے تھے۔چنانچہ غالباً یہ اسی زمانہ کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ جب آپ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے عقبہ بن ابی معیط غصہ میں اُٹھا اور آپ کے گلے میں کپڑا ڈال کر اس زور کے ساتھ بھینچا کہ آپ کا دم ل : سیرۃ ابن ہشام : بخاری باب ماجاء في اسماء الرسول : تاریخ طبری