سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 160 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 160

17۔آپ نے اُن کی طرف دیکھا اور دردمندانہ لہجہ میں فرمایا: صَبرًا إِلَ يَاسِرٍ فَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْجَنَّةُ ”اے آل یا سر صبر کا دامن نہ چھوڑنا کہ خدا نے تمہاری انہی تکلیفوں کے بدلے میں تمہارے لئے جنت تیار کر رکھی ہے۔آخر یا سر تو اس عذاب کی حالت میں جاں بحق ہو گئے اور بوڑھی سمتیہ کی ران میں ظالم ابو جہل نے اس بے دردی سے نیزہ مارا کہ وہ اس کے جسم کو کاٹتا ہوا ان کی شرمگاہ تک جا نکلا اور اس بے گناہ خاتون نے اسی جگہ تڑپتے ہوئے جان دے دی۔اب صرف عمار باقی رہ گئے۔ان کو بھی ان لوگوں نے انتہائی عذاب اور دکھ میں مبتلا کیا اور ان سے کہا کہ ” جب تک محمدؐ کا کفر نہ کرو گے اسی طرح عذاب دیتے رہیں گے۔چنانچہ آخر عمار نے سخت تنگ آ کر کوئی نازیبا الفاظ منہ سے کہہ دیئے جس پر کفار نے انہیں چھوڑ دیا۔لیکن اس کے بعد عمار فوراً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور زار زار رونے لگے۔آپ نے پوچھا ” کیوں عمار کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا۔”یا رسول اللہ میں ہلاک ہو گیا۔مجھے ظالموں نے اتنا دکھ دیا کہ میں نے آپ کے متعلق کچھ نا گفتنی الفاظ منہ سے کہہ دیئے۔آپ نے فرمایا: ”تم اپنے دل کا حال کیسا پاتے ہو؟ اُس نے عرض کیا۔یا رسول اللہ میرا دل تو اُسی طرح مومن ہے اور اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں اُسی طرح سرشار “ آپ نے فرمایا۔تو پھر خیر ہے خدا تمہاری اس لغزش کو معاف کرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی تکالیف مسلمانوں کی ان تکالیف کے مقابلہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی حالت بھی مخالفت کے اس طوفان بے تمیزی میں چنداں تسلی بخش نہ تھی۔بے شک بنو ہاشم اور بنومطلب کے اس فیصلہ کے بعد جس کا ذکر اوپر گذر چکا ہے آپ کو اپنے اعزہ واقارب کی عمومی حمایت حاصل تھی اور قریش کی بین القبائل سیاست میں یہ حمایت خاصہ وزن رکھتی تھی، لیکن اول تو آپ کے چار ابولہب کی بیوفائی اور غداری نے اس فیصلہ کی طاقت کو ایک حد تک کمزور کر دیا تھا۔دوسرے خود قریش بھی یہ دھمکی دے چکے تھے کہ اگر بنو ہاشم اور بنو مطلب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت و پناہ بننے سے باز نہیں آئیں گے تو پھر ہم ان سب کا مقابلہ کریں گے اور گوا بھی تک انہوں نے اس دھمکی کو پورے طور پر عملی جامہ نہیں پہنایا تھا، لیکن وہ اس کی تیاری میں مصروف تھے اور طعن و تشنیع اور نوک جھونک سے گذر کر کبھی کبھی اپنا بچاؤ رکھ کر ملی چھیڑ چھاڑ بھی کر لیتے تھے ، چنانچہ سب سے پہلے تو انہوں نے ایک مجلس کر کے اس سوال پر غور کیا کہ اب جو حج کا موسم آئے گا تو اس موقع پر لازما باہر سے آنے والے حاجیوں میں اسلام کے متعلق چر چا ہو گا اور لوگ آ آ کر ہم سے