سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 924 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 924

۹۲۴ کرنے والا ہے اور میں اس بات کی شہادت دیتا ہوں کہ عیسی ابن مریم خدا کے کلام کے ذریعہ مبعوث ہوئے اور اس کے حکم سے عالم وجود میں آئے جو اس نے مریم بتول پر نازل کیا تھا۔اوراے بادشاہ! میں آپ کو خدائے واحد کی طرف بلاتا ہوں جس کا کوئی شریک نہیں اور میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ خدا کی اطاعت میں میرے ساتھ تعاون کریں اور میری اتباع اختیار کرتے ہوئے اس کلام پر ایمان لائیں جو مجھ پر نازل ہوا ہے کیونکہ میں خدا کا رسول ہوں اور اسی حیثیت میں آپ کو اور آپ کی رعایا کو خدا کی طرف بلاتا ہوں۔میں نے آپ کو اپنا پیغام پہنچا دیا ہے اوراخلاص اور ہمدردی کے ساتھ آپ کو صداقت کی طرف دعوت دی ہے۔پس میرے اس اخلاص اور ہمدردی کو قبول کریں۔میں (اس سے قبل ) آپ کی طرف اپنے چچازاد بھائی جعفر اور ان کے ساتھ بعض دوسرے مسلمانوں کو بھجوا چکا ہوں۔اور سلامتی ہو ہر اس شخص پر جوخدا کی ہدایت کو اختیار کرتا ہے۔“ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خط نجاشی کو پہنچا تو اس نے اسے اپنی آنکھوں سے لگایا اور ادب کے طریق پر اپنے تخت سے نیچے اتر آیا اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے رسول ہیں یا پھر اس نے ایک ہاتھی دانت کی ڈبیہ منگوائی اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خط محفوظ کر کے رکھ دیا اور کہا میں یقین کرتا ہوں کہ جب تک یہ خط ہمارے گھرانے میں محفوظ رہے گا ، اہل حبشہ اس کی وجہ سے خیرا اور برکت پاتے رہیں گے یہ تاریخ انمیس کا مصنف لکھتا ہے کہ یہ خط آج تک حبشہ کے شاہی خاندان میں محفوظ ہے۔اس کے بعد نجاشی نے ذیل کا جواب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لکھا؟ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِلَى مُحَمَّدِ رَسُولِ اللَّهِ مِنَ النَّجَاشِي أَصْحَمَةِ سَلَامٌ عَلَيْكَ يَارَسُوْلَ اللهِ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُ اللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الَّذِي هَدَانِي لِلإِسْلَام أَمَّا بَعْدُ فَقَدْ بَلَغَنِيُّ كِتَابُكَ يَارَسُولَ اللهِ فَمَا ذَكَرُتَ مِنْ أَمْرِعِيُسَىٰ فَوَرَبِّ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِنَّ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ لَا يَزِيدُ مَا ذَكَرْتَ ثَفُرُوْقًا وَقَدْ عَرَفْنَا مَا بَعَثْتَ بِهِ إِلَيْنَا۔فَأَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولَ اللهِ صَادِقًا مَصْدُوقًا وَقَدْ بَايَعْتُكَ وَبَايَعُتُ ابْنَ عَمِكَ ابن سعد وزرقانی جلد ۳ صفحه ۳۶۶ تاریخ الخمیس جلد ۲ صفحه ۳۳ ۳۴ وزرقانی جلد ۳ صفحه ۳۶۶