سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 923 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 923

۹۲۳ نجاشی کے نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تبلیغی خط کتاب ہذا کے حصہ اول میں براعظم افریقہ کی عیسائی حکومت حبشہ کا ذکر کیا جاچکا ہے۔اس حکومت کے بادشاہ کا موروثی لقب نجاشی ہوا کرتا تھا۔یہ بات بھی کتاب کے حصہ اول میں گزر چکی ہے کہ جب مکہ میں مسلمانوں کے خلاف قریش کے مظالم نے زور پکڑا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بہت سے صحابہ کو (جن میں بعض عورتیں بھی شامل تھیں ) حبشہ بھجوا دیا تھا۔اور با وجود قریش کے پیچھا کرنے اور نجاشی کو طرح طرح سے بہکانے کے نجاشی حق وانصاف کے رستہ پر قائم رہا اور مسلمان مہاجر ایک لمبے عرصہ تک اس کی حکومت میں امن و عافیت کے ساتھ رہتے رہے یہ نجاشی جس کا نام اصحمہ تھا شروع سے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت مداح تھا اور آپ کو بڑی عزت کی نظر سے دیکھتا تھا اور آپ کے صحابہ کے ساتھ بھی اس کا سلوک صرف منصفانہ ہی نہیں تھا بلکہ حقیقتامر بیا نہ تھا لیکن بہر حال وہ ابھی تک عمومی رنگ میں خوش عقیدہ ہونے کے باوجود مسلمان نہیں ہوا تھا اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صلح حدیبیہ کے بعد مختلف بادشاہوں کے نام تبلیغی خطوط لکھے تو اس موقع پر ایک خط اپنے صحابی عمرو بن امیہ ضمری کے ہاتھ نجاشی کے نام بھی لکھ کر بھجوایا۔اس خط کی عبارت یہ تھی۔بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ إِلَى النَّجَاشِي مَلِكِ الْحَبْشَةِ سَلّمْ أَنْتَ۔أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّاهُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ۔وَاَشْهَدُ اَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ اَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ الْبَتُولِ وَإِنِّى اَدْعُوكَ إِلَى اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَالْمَوَالَاةِ عَلَى طَاعَتِهِ وَإِنْ تَتَّبِعُنِى وَتُؤْمِنُ بِالَّذِي جَاءَ نِي فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وإِنِّي اَدْعُوكَ وَجُنُودَكَ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَقَدْ بَلَّغْتُ وَنَصَحْتُ فَاقْبِلُوا نَصِيْحَتِي وَقَدْ بَعَثْتُ إِلَيْكَ ابْنَ عَمِّى جَعْفَراً وَمَعَهُ نَفَرْمِنَ الْمُسْلِمِينَ۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى یعنی ” میں اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں جو بن مانگے دینے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔یہ خط اللہ کے رسول محمد کی طرف سے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے نام ہے۔اے بادشاہ! آپ پر خدا کی سلامتی ہو۔اس کے بعد میں آپ کے سامنے اس خدا کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی عبادت کے قابل نہیں۔وہی زمین و آسمان کا حقیقی بادشاہ ہے جو تمام خوبیوں کا جامع اور تمام نقصوں سے پاک ہے۔وہ مخلوق کو امن دینے والا اور دنیا کی حفاظت کتاب طذ ا حصہ اوّل صفحه ۱۶۵ تا ۱۷۴ ابن سعد وزرقانی جلد ۳ صفحه ۳۴۴،۳۴۳