سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 925
۹۲۵ وَأَسْلَمْتُ عَلَى يَدَيْهِ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔۔۔۔۔وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ لا یعنی اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمن اور رحیم ہے۔یہ خط محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے نام نجاشی اصحمہ کی طرف سے ہے۔یا رسول اللہ آپ پر سلامتی ہو اور اس خدا کی طرف سے برکتیں نازل ہوں جس کے سوا کوئی قابل پرستش نہیں۔اور وہی ہے جس نے مجھے اسلام کی طرف ہدایت دی ہے اس کے بعد یا رسول اللہ آپ کا خط مجھے پہنچا۔خدا کی قسم جو کچھ آپ نے عیسی علیہ السلام کے متعلق بیان کیا ہے میں انہیں اس سے ذرہ بھر بھی زیادہ نہیں سمجھتا۔اور ہم نے آپ کی دعوت حق کو سمجھ لیا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ خدا کے بچے رسول ہیں جن کے متعلق پہلے صحیفوں میں بھی خبر دی گئی تھی۔پس میں آپ کے چچا زاد بھائی جعفر کے ذریعہ آپ کے ہاتھ پر خدا کی خاطر بیعت کرتا ہوں۔۔۔اور اللہ تعالیٰ کی سلامتی ہو آپ پر اور اس کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خط نجاشی کو لکھا اور نجاشی نے اس کا جو جواب دیا ان دونوں میں ایک خاص کیفیت پائی جاتی ہے جو اوپر کے کسی اور خط میں نظر نہیں آتی۔یعنی ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کے الفاظ اس امید سے معمور نظر آتے ہیں کہ انشاء اللہ آپ کی تبلیغ سے نجاشی ضرور مسلمان ہو جائے گا اور دوسری طرف نجاشی کا خط اس حقیقت کا حامل ہے کہ گویا اس کی روح پہلے سے صداقت کے قبول کرنے کے لئے تیار بیٹھی ہے۔بہر حال خدا تعالیٰ نے نجاشی کو اسلام کی توفیق عطا کی۔اور یہ وہی نجاشی ہے جو ۹ ہجری میں فوت ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے یہ فرماتے ہوئے اس کی نماز جنازہ ادا کی کہ تمہارا ایک صالح بھائی نجاشی حبشہ میں فوت ہو گیا ہے۔آؤ ہم سب مل کر اس کی روح کے لئے دعا کریں ہے جو نجاشی اس نجاشی کی وفات کے بعد حبشہ کے تخت پر بیٹھا اس کا نام روایات میں محفوظ نہیں ہے مگر تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی ایک تبلیغی خط لکھا تھا۔مگر بدقسمتی سے اس نے آپ کی دعوت کو قبول نہیں کیا اور مسیحی مذہب پر ہی فوت ہوا۔کے غالباً یہی وجہ ہے کہ حبشہ میں اسلام زیادہ پھیل نہیں سکا۔بخاری و مسلم نیز زرقانی : صحیح مسلم زرقانی جلد ۳ صفحه ۳۴۶ نیز صفحه ۳۶۶