سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 850 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 850

۸۵۰ تمہیں مجھ پر کسی قسم کی بے اعتمادی ہے؟ قریش نے کہا ہرگز نہیں “۔اس نے کہا تو پھر میری یہ رائے ہے کہ اس شخص محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے آپ کے سامنے ایک عمدہ بات پیش کی ہے۔آپ کو چاہیے کہ اس تجویز کو قبول کر لیں اور مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کی طرف سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر ید گفتگو کروں۔قریش نے کہا ”بے شک آپ جائیں اور گفتگو کریں۔مزید 66 عروہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کا ایک روح پرور نظارہ کی خدمت میں آیا اور آپ کے ساتھ گفتگو شروع کی۔آپ نے اس کے سامنے اپنی وہی تقریر دوہرائی جو اس سے قبل آپ بدیل بن ورقا کے سامنے فرما چکے تھے۔عروہ اصولاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے کے ساتھ متفق تھا مگر قریش کی سفارت کا حق ادا کرنے اور ان کے حق میں زیادہ سے زیادہ شرائط محفوظ کرانے کی غرض سے کہنے لگا۔اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اگر آپ نے اس جنگ میں اپنی قوم کو ملیا میٹ کر دیا تو کیا آپ نے عربوں میں کسی ایسے آدمی کا نام سنا ہے جس نے آپ سے پہلے ایسا ظلم ڈھایا ہو۔لیکن اگر بات دگر گوں ہوئی یعنی قریش کو غلبہ ہو گیا تو خدا کی قسم مجھے آپ کے ارد گرد ایسے منہ نظر آرہے ہیں کہ انہیں بھاگتے ہوئے دیر نہیں لگے گی اور یہ سب لوگ آپ کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔حضرت ابوبکر جو اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی بیٹھے تھے عروہ کے یہ الفاظ سن کر غصہ سے بھر گئے اور فرمانے لگے ” جاؤ جاؤ اور لات کی شرمگاہ کو چومتے پھرو۔کیا ہم خدا کے رسول کو چھوڑ جائیں گے ؟ ۲۰ عروہ نے طیش میں آکر پوچھا یہ کون شخص ہے جو اس طرح میری بات کا تھا ہے؟ لوگوں نے کہا یہ ابوبکر ہیں۔ابوبکر کا نام سن کر عروہ کی آنکھیں شرم سے نیچی ہو گئیں۔کہنے لگا اے ابوبکر! اگر میرے سر پر تمہارا ایک بھاری احسان نہ ہوتا کے تو خدا کی قسم میں تمہیں اس وقت بتاتا کہ ایسی بات کا جو تم نے کہی ہے کس طرح جواب دیتے ہیں۔یہ کہہ کر ل بخاری کتاب الشروط لات قبیلہ بنو ثقیف کا ایک مشہور بت تھا اور حضرت ابوبکر کا مطلب یہ تھا کہ تم لوگ بت پرست ہوا اور ہم لوگ خدا پرست ہیں تو کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ تم تو بتوں کی خاطر صبر و ثبات دکھاؤ اور ہم خدا پر ایمان لاتے ہوئے رسول خدا کو چھوڑ کر بھاگ جائیں؟ ے عروہ ایک دفعہ بھاری قرضہ کے نیچے دب گیا تھا اور حضرت ابو بکڑ نے اپنے پاس سے اس کا قرض ادا کر کے اس کی جان چھڑا ئی تھی۔