سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 851
۸۵۱ 66 عروہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہوا اور اپنی تقریر کو جاری رکھتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے نقطہ نظر کی طرف کھینچ لانے کی تدبیر کرتا رہا اور گاہے گاہے عرب کے دستور کے مطابق آپ کی ریش مبارک کو بھی ہاتھ لگا دیتا تھا۔مگر جب کبھی بھی وہ ایسا کرتا ایک مخلص صحابی جن کا نام مغیرہ بن شعبہ تھا اور جو اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے (اور رشتہ میں عروہ کے بھتیجے تھے ) اپنی تلوار کے نیام سے عروہ کا ہاتھ جھٹک کر پرے کر دیتے اور کہتے اپنا نا پاک ہاتھ رسول مقبول کے مبارک چہرہ سے دور رکھو۔چونکہ اس وقت مغیرہ کا چہرہ ایک خود کے اندر ڈھکا ہوا تھا عروہ نے انہیں نہ پہچانتے ہوئے پوچھا۔یہ کون شخص ہے؟ لوگوں نے کہا یہ مغیرہ بن شعبہ ہے۔‘“ عروہ نے حقارت اور غصہ سے کہا ”اے بے وفا ! کیا تجھے میرا احسان بھول گیا ہے؟ اس پر مغیرہ شرم سے جھینپ گئے۔اس وقت عروہ نے اپنے اردگرد فخر کی نگاہ ڈالی مگر یہی نگاہ اسے گھائل کر گئی۔کیونکہ عروہ نے اس وقت صحابہ کی جماعت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد اس طرح جمع پایا جس طرح شمع کے گرد پروانے جمع ہوتے ہیں اور خود عروہ کا اپنا بیان ہے کہ اس وقت مسلمانوں کے جوش محبت واخلاص کا یہ عالم تھا کہ اگر پانی پیتے ہوئے آپ کے منہ سے کوئی قطرہ گرتا تو صحابہ اسے شوق سے اپنے ہاتھوں پر لیتے اور برکت کے خیال سے اسے اپنے چہروں اور جسموں پر مل لیتے اور جب آپ کسی چیز کا ارشاد فرماتے تو لوگ آپ کی آواز پر اس طرح لپکتے کہ گویا ایک مقابلہ ہو جاتا تھا۔اور جب آپ وضو کرتے تو صحابہ اس شوق سے آپ کو وضو کر وانے کے لئے آگے بڑھتے کہ گویا اس خدمت کے حصول کے لئے ایک دوسرے سے لڑ پڑیں گے اور جب آپ گفتگو فرماتے تو صحابہ خاموش ہو کر ہمہ تن گوش ہو جاتے اور محبت اور رعب کی وجہ سے ان کی نظر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اٹھ نہیں سکتی تھیں۔عروہ ان روح پرور نظاروں کو دیکھ کر اور آپ کے ساتھ گفتگو ختم کر کے قریش کی طرف لوٹا اور جاتے ہی قریش سے کہنے لگا "اے لوگو! میں نے دنیا میں بہت سفر کیا ہے۔بادشاہوں کے دربار میں شامل ہوا ہوں اور قیصر و کسری اور نجاشی کے سامنے بطور وفد کے پیش ہو چکا ہوں مگر خدا کی قسم جس طرح میں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے صحابیوں کومحمد کی عزت کرتے دیکھا ہے ایسا میں نے کسی اور جگہ نہیں دیکھا۔“ ل : عروہ نے مغیرہ کے اسلام لانے سے پہلے ان پر یہ احسان کیا تھا کہ ان کی طرف سے بعض قتلوں کا خون بہا ادا کیا تھا اور عربوں میں احسان کی بڑی قدرو قیمت تھی جسے اسلام نے اور بھی بڑھا دیا تھا۔: بخاری کتاب الشروط