سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 849 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 849

۸۴۹ سے عرض کیا کہ ملکہ کے رؤساء جنگ کے لئے تیار کھڑے ہیں اور وہ کبھی بھی آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔آپ نے فرمایا ”ہم تو جنگ کی غرض سے نہیں آئے بلکہ صرف عمرہ کی نیت سے آئے ہیں اور افسوس ہے کہ باوجود اس کے کہ قریش مکہ کو جنگ کی آگ نے جلا جلا کر خاک کر رکھا ہے مگر پھر بھی یہ لوگ باز نہیں آتے اور میں تو ان لوگوں کے ساتھ اس سمجھوتہ کے لئے بھی تیار ہوں کہ وہ میرے خلاف جنگ بند کر کے مجھے دوسرے لوگوں کے لئے آزاد چھوڑ دیں۔لیکن اگر انہوں نے میری اس تجویز کو بھی رد کر دیا اور بہر صورت جنگ کی آگ کو بھڑکائے رکھا تو مجھے بھی اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ پھر میں بھی اس مقابلہ سے اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹوں گا کہ یا تو میری جان اس رستہ میں قربان ہو جائے اور یا خدا مجھے فتح عطا کرے۔اگر میں ان کے مقابلہ میں آکر مٹ گیا تو قصہ ختم ہوا لیکن اگر خدا نے مجھے فتح عطا کی اور میرے لائے ہوئے دین کو غلبہ حاصل ہو گیا تو پھر مکہ والوں کو بھی ایمان لے آنے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہئے ، بدیل بن ورقا پر آپ کی اس مخلصانہ اور دردمندانہ تقریر کا بہت اثر ہوا اور اس نے آپ سے عرض کیا کہ آپ مجھے کچھ مہلت دیں کہ میں مکہ جا کر آپ کا پیغام پہنچاؤں اور مصالحت کی کوشش کروں۔آپ نے اجازت دی اور بریل اپنے قبیلہ کے چند آدمیوں کو اپنے ساتھ لے کر مکہ کی طرف روانہ ہو گیا ہے جب بدیل بن ورقا مکہ میں پہنچا تو اس نے قریش کو جمع کر کے ان سے کہا کہ میں اس شخص (یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) [ عرب کا دستور تھا کہ ایسے موقعوں پر جب ایک معروف شخص کے متعلق گفتگو کرنی ہو تو نام لینے کی بجائے یہ شخص یا اس شخص “ وغیرہ کے لفظ استعمال کرتے تھے] کے پاس سے آ رہا ہوں اور میرے سامنے اس نے ایک تجویز پیش کی ہے اگر آپ اجازت دیں تو میں اس کا ذکر کروں۔اس پر قریش کے جو شیلے اور غیر ذمہ دار لوگ کہنے لگے۔ہم اس شخص کی کوئی بات سننے کے لئے تیار نہیں مگر اہل الرائے اور ثقہ لوگوں نے کہا ہاں ہاں جو تجویز بھی ہے وہ ہمیں بتاؤ۔چنانچہ بدیل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ تجویز کا اعادہ کیا۔اس پر ایک شخص عروہ بن مسعود نامی جو قبیلہ ثقیف کا ایک بہت با اثر رئیس تھا اور اس وقت مکہ میں موجود تھا کھڑا ہو گیا اور قدیم عربی انداز میں قریش سے کہنے لگا "اے لوگو! کیا میں تمہارے باپ کی جگہ نہیں ہوں؟“ انہوں نے کہا ”ہاں“۔پھر اس نے کہا ” کیا آپ لوگ میرے بیٹوں کی طرح نہیں ہیں ؟ انہوں نے کہا ”ہاں“۔پھر عروہ نے کہا ” کیا ل : بخاری کتاب الشروط