سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 748 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 748

۷۴۸ دراصل گوعرب کے قبائل غزوہ احزاب میں جو اواخر ۵ ہجری میں ہوا اپنا انتہائی زور لگا دینے کے بعد اس خیال سے تو عملاً مایوس ہو چکے تھے کہ مدینہ پر حملہ آور ہو کر مسلمانوں کو ان کے گھر میں ہی ملیا میٹ کیا جاسکتا ہے مگر ابھی تک عداوت اسلام کی آگ ان کے سینوں میں اسی طرح شعلہ زن تھی بلکہ غزوہ احزاب کی ذلت بھری ناکامی نے ان کی دلی عداوت کو اور بھی بھڑ کا دیا تھا۔اس لئے اب اگر ایک طرف عرب کے وحشی اور خونخوار قبائل نے مدینہ پر باقاعدہ حملہ کرنے کا خیال ترک کر دیا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ پیشگوئی پوری ہوگئی تھی کہ غزوہ احزاب کے بعد یہ لوگ مدینہ پر حملہ آور نہیں ہوں گے تو دوسری طرف وہ اسلام کو مٹانے اور مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کے لئے نئے ہتھیاروں سے مسلح ہو کر میدان میں نکل رہے تھے۔چنانچہ اس زمانہ میں انہوں نے تین تدابیر اختیار کیں۔اول انہوں نے یہ تجویز کی کہ مدینہ سے باہر جن جن قبائل میں اسلام کا اثر پہنچ رہا تھا یا جن میں اثر پہنچنے کا احتمال تھا وہاں اسلام کی اشاعت کو جبر آروک دیا جاوے تا کہ کوئی نیا شخص مسلمان ہو کر اور مدینہ کی طرف ہجرت کر کے مسلمانوں کی تقویت کا باعث نہ بنے۔دوسرے یہ کہ مدینہ کے مضافات پر خفیہ خفیہ چھاپے مار کر مسلمانوں کے جان و مال کو نقصان پہنچایا جاوے۔تیسرے یہ کہ کسی مخفی تدبیر سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو نظام اسلام کا مرکزی نقطہ تھے قتل کروا دیا جاوے۔ہر چند کہ یہ تینوں تجاویز ایک حد تک پہلے سے کفار کے مد نظر تھیں اور وہ عملاً ان کے لئے کوشاں بھی رہتے تھے مگر اب انہوں نے دوسری طرف سے خیال ہٹا کر گویا اپنا سارا زور انہی تجاویز کے کامیاب بنانے میں صرف کرنا شروع کر دیا۔چنانچہ وہ مہمات جن کا ذکر اب شروع ہوتا ہے ان کا باعث زیادہ تر کفار عرب کی یہی تدابیر تھیں۔ہم ان میں سے خاص خاص غزوات وسرایا کا ذکر کسی قدر تفصیلا اور باقی کا مجملاًہد یہ ناظرین کرتے ہیں۔ابھی ۶ ھ شروع ہی ہوا تھا اور قمری سال سریہ قرطا۔محرم ۶ ہجری مطابق مئی، جون ۶۲۷ ء کے پہلے مہینہ یعنی محرم کی ابتدائی تاریخیں ل : تاریخ میں ان تجاویز کا اس رنگ میں صراحت سے ذکر نہیں آتا لیکن بعد کے واقعات سے ان کے متعلق یقینی استدلال ہوتا ہے۔