سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 749 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 749

۷۴۹ تھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اہل نجد کی طرف سے خطرہ کی اطلاعات پہنچیں۔یہ اندیشہ قبیلہ قرطا کی طرف سے تھا جو قبیلہ بنو بکر کی ایک شاخ تھا اور نجد کے علاقہ میں بمقام ضریہ آباد تھا جو مدینہ سے سات یوم کی مسافت پر واقع تھا۔یہ خبر پاکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فورا تمہیں سواروں کا ایک ہلکا سا دستہ اپنے ایک صحابی محمد بن مسلمہ انصاری کی کمان میں نجد کی طرف روانہ فرما دیا مگر اللہ تعالیٰ نے کفار کے دلوں میں کچھ ایسا رعب پیدا کر دیا کہ وہ معمولی سے مقابلہ کے بعد ہی بھاگ نکلے اور گو اس زمانہ کے طریق جنگ کے مطابق مسلمانوں کے لئے یہ موقع تھا کہ وہ دشمن کی عورتوں اور بچوں کو قید کر لیتے کیونکہ دشمن انہیں چھوڑ کر بھاگ نکلا تھا مگر محمد بن مسلمہ نے عورتوں اور بچوں سے کوئی تعرض نہیں کیا اور عام سامان غنیمت لے کر جو اونٹوں اور بکریوں پر مشتمل تھا مدینہ کی طرف واپس لوٹ آئے۔ہے ثمامہ بن اثال رئیس بیمامہ کا اسلام لا نا محرم ۶ ہجری اس مہم کی واپسی پر شمامہ بن انغال کے قید کئے جانے کا واقعہ پیش آیا۔یہ شخص یامہ کا رہنے والا تھا اور قبیلہ بنوحنیفہ کا ایک بہت با اثر رئیس تھا اور اسلام کی عداوت میں اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ ہمیشہ بے گناہ مسلمانوں کے قتل کے درپے رہتا تھا۔چنانچہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اینچی اس کے علاقہ میں گیا تو اس نے تمام قوانین جنگ کو بالائے طاق رکھ کر اس کے قتل کی سازش کی۔بلکہ ایک دفعہ اس نے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا بھی ارادہ کیا تھا۔جب محمد بن مسلمہ کی پارٹی شمامہ کو قید کر کے لائی تو انہیں یہ علم نہیں تھا کہ یہ کون شخص ہے بلکہ انہوں نے اسے محض شبہ کی بنا پر قید کر لیا تھا اور معلوم ہوتا ہے کہ ثمامہ نے بھی کمال ہوشیاری کے ساتھ ان پر اپنی حقیقت ظاہر نہیں ہونے دی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ میں اسلام کے خلاف خطرناک جرائم کا مرتکب ہو چکا ہوں اور اگر اسلام کے ان غیرت مند سپاہیوں کو یہ پتہ چل گیا کہ میں کون ہوں تو وہ شاید مجھ پر سختی کریں یا قتل ہی کر دیں مگر خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ بہتر سلوک کی توقع رکھتا تھا۔چنانچہ مدینہ کی واپسی تک محمد بن مسلمہ کی پارٹی پر مامہ کی شخصیت مخفی رہی۔ے اس زمانے کے طریق سفر کے لحاظ سے یہ فاصلہ قریباً ڈیڑھ سو میل سمجھنا چاہیئے۔ابن سعد جلد ۲ صفحه ۵۶ وزرقانی جلد ۲ حالات سریہ قمر کا : زرقانی حالات سریہ فخر کا ۵: اصابه جلد اصفحه ۴۱۲ : ابن سعد جلد ۵ صفحه ۴۰۱