سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 747 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 747

۷۴۷ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مدنی زندگی کے دوسرے دور کا آغاز صلح حدیبیہ سے پہلے کا زمانہ جیسا کہ اس کتاب کے حصہ دوم کے آخر میں بیان کیا جا چکا ہے ۶ ہجری کی ابتدا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی زندگی کے دوسرے دور کا آغاز ہوتا ہے۔اس نئے دور کی نمایاں خصوصیات تین تھیں: اول۔یہ کہ اب مدینہ کا شہر غیر مسلم عصر سے عملاً پاک ہو چکا تھا اور گومنافقین کا گروہ اب تک مدینہ میں موجود تھا اور یہ لوگ اپنی قلبی عداوت اور مخفی چالبازیوں میں اس وقت غالبا آگے سے بھی زیادہ جوش و خروش میں تھے مگر بہر حال وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے اور جہاں تک ظاہری نظام کا تعلق ہے وہ اسلامی سوسائٹی کا حصہ تھے۔دوم۔گو قریش مکہ ابھی تک اسلام کے خلاف میدان عمل میں تھے مگر غزوہ احزاب کی ناکامی سے انہیں ایسا دھکا لگ چکا تھا کہ اب وہ اسلام کی عداوت کا مرکزی نقطہ نہیں رہے تھے۔سوم۔میدان کارزاراب مدینہ سے ہٹ کر عرب کے مختلف اطراف میں پھیل گیا تھا۔اس مؤخر الذکر تبدیلی کی وجہ سے مسلمانوں کی بیرونی مہمیں بھی لازما زیادہ کثرت اور زیادہ تنوع اختیار کر گئی تھیں اور ان کا حلقہ آگے سے بہت زیادہ وسیع ہو کر گونا گوں معرکوں کا منظر پیش کرنے لگا تھا۔چنانچہ تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ ہجرت کا چھٹا سال جس میں ہم اب داخل ہو رہے ہیں مسلمانوں کے لئے غیر معمولی نقل و حرکت کا سال تھا جس میں انہیں کم و بیش اٹھارہ مرتبہ مدینہ سے نکلنا پڑا اور ان مہمات میں سے ایک مہم ( یعنی غزوہ حدیبیہ ) تو خاص طور پر نہایت اہم اور نہایت وسیع الاثر تھی۔میور ایڈیشن ۱۹۲۳ء صفحه ۳۴۱