سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 724
۷۲۴ مَنْ خَرَجَ عَنِ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ مِيْتَةً جَاهِلِيَّةٌ لا یعنی ” جو شخص امیر کی اطاعت سے خروج کرتا ہے اور جماعت کے اتحاد سے علیحدگی اختیار کر کے تفرقہ کی بنیاد قائم کرتا ہے۔وہ اگر بغیر تو بہ کے اسی حالت میں مرجاوے تو اس کی موت غیر اسلامی موت ہوگی، مگر ساتھ ہی رعایا کو یہ تحریک کی گئی ہے کہ اگر امیر کا رویہ ظالمانہ اور غاصبانہ ہو تو وہ اسے نیک مشورہ دے کر اصلاح کی کوشش کرے اور اس کوشش کو اسلام میں ایک بہت بڑا جہاد اور نیکی کا فعل قرار دیا گیا ہے چنانچہ فرمایا: أَفْضَلُ الْجِهَادِ مَنْ قَالَ كَلِمَةَ حَقٌّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ ے یعنی ” جب کوئی امیر ظلم و تعدی کا طریق اختیار کرے تو اس حالت میں سب سے افضل جہاد یہ ہے کہ انسان اس امیر کوحق وانصاف کا مشورہ دے کر اسے اس کی ناجائز اور ظالمانہ کارروائیوں سے باز رکھنے کی کوشش کرے۔“ 66 لیکن اگر اس پر بھی امیر کی اصلاح نہ ہو اور وہ اپنی نا واجب کا رروائیوں پر مصرر ہے اور صریح طور پر خدائی احکام کے خلاف حکم دے تو رعایا کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ نیک اور جائز باتوں میں تو بدستور امیر کی اطاعت کرتی رہے مگر نا جائز حصہ میں اس کی اطاعت سے انکار کر دے چنانچہ فرمایا: السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيْمَا اَحَبَّ وَكَرِهَ وَمَالَمْ يُؤْمَرُ بِمَعْصِيَةٍ فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ یعنی ” ہر مسلمان پر اپنے امیر کا حکم ماننا فرض ہے خواہ وہ حکم اسے پسند ہو یا نہ ہو لیکن اگر اسے کوئی ایسا حکم دیا جاوے جس میں خدائی قانون کی صریح نافرمانی لازم آتی ہو تو ایسے حکم کا سنا اور ماننا اس پر فرض نہیں ہوگا۔“ اگر با وجود رعایا کے اس نیک مشورہ اور اس جزوی عدم اطاعت کے کسی امیر کے ناجائز احکام کا سلسلہ ترقی کرتا جاوے اور وہ بر ملا طور پر خدائی قانون سیاست اور خدائی قانون شریعت کے خلاف قدم زن ہونا شروع کر دے حتی کہ اس کی امارت اس حد تک ضرر رساں صورت اختیار کر لے کہ اسے توڑنے کے لیے ملک کے امن اور جماعت کے اتحاد تک کو خطرے میں ڈالنا مناسب ہو جاوے تو اس قسم کے انتہائی حالات میں لوگوں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اس امیر کی اطاعت سے خروج کر کے اس کے عزل کے لیے ساعی ہوں چنانچہ حدیث میں آتا ہے: عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ بَايَعْنَا رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى السَّمْعَ وَالطَّاعَةِ مسلم بحوالہ مشکوۃ کتاب الامارۃ فصل اول س : بخاری کتاب الاحکام باب السمع والطاعة ترندی و ابوداؤ د واحمد بروایت مشکوۃ باب الامارة