سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 725
۷۲۵ فِي مَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا وَعُسْرِنَا وَيُسْرِنَا وَأَثَرَةٍ عَلَيْنَا وَعَلَى أَلَّا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ إِلَّا أَنْ تَرَوُا كُفْرًا بَوَّاحًا عِنْدَ كُمُ مِنَ اللهِ فِيْهِ بُرْهَانٌ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشہور صحابی عبادۃ بن صامت روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے بیعت میں یہ اقرار لیا کرتے تھے کہ ہم ہر حال میں اپنے امیر کی اطاعت کریں گے۔عسر میں اور میسر میں۔پسندیدگی کی حالت میں اور نا پسندیدگی کی حالت میں خواہ ہمارے حقوق ہمیں ملیں یا ہم سے چھینے جائیں اور یہ کہ ہم کسی حالت میں بھی اپنے امیروں کے ساتھ امارت کے معاملہ میں تنازعہ نہیں کریں گے۔مگر آپ نے فرمایا ”ہاں اگر تم اپنے امیر کے رویہ میں کوئی ایسا کھلا کھلا کفر پاؤ یعنی خدا کے کسی اصولی قانون کی ایسی صریح نافرمانی دیکھو جس کے متعلق تمہارے پاس خدا کی طرف سے کوئی روشن اور قطعی دلیل موجود ہو، تو پھر تمہیں اس کے ساتھ امارت کے معاملہ میں تنازعہ کرنے کا حق ہے۔اس حدیث میں جو کفر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اس کے متعلق یا درکھنا چاہئے کہ اس سے صرف عقیدہ کا کفر مراد نہیں بلکہ قانون سیاست اور قانون شریعت کے کسی اصل الاصول کا تو ڑ نا مراد ہے۔چنانچہ دوسری حدیث میں آتا ہے کہ کسی بے گناہ مسلمان کا ناجائز قتل بھی کفر میں داخل ہے۔اور محقق صحابہ نے ان خلاف شریعت کا رروائیوں کو بھی جو حضرت عثمان کے زمانہ میں فتنہ پردازوں کی طرف سے شروع ہو گئی تھیں کفر قرار دیا ہے۔مگر امیر کے خلاف سراٹھانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ یہ کفر بالکل صریح اور کھلا کھلا ہو اور کسی اجتہادی غلطی یا مشتبہ حالات کا نتیجہ نہ ہو۔حتی کہ امیر کی بریت کے لیے امکانی طور پر بھی تاویل کا کوئی دروازہ کھلا نہ رہے اور اسکی امارت اس حد تک خطر ناک صورت اختیار کر لے کہ اس کے توڑنے کے لیے ملک کے امن اور قوم کے اتحاد تک کو خطرے میں ڈالناضروری ہو جاوے۔عزل کی کوشش حکومت کے اندر رہتے ہوئے جائز نہیں لیکن اس حالت میں بھی اسلام اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ امیر کی مملکت میں رہتے ہوئے اور اس کی اطاعت کا جوا اپنی گردن پر رکھتے ہوئے اس کے خلاف بغاوت کا جھنڈا بلند کیا جاوے اور اس میں غرض یہ مد نظر ہے کہ تا ملک کے اندرسول وار یعنی خانہ جنگی کی صورت پیدا نہ ہو اور یہ خطر ناک منظر نظر نہ آوے کہ ایک امیر کے ماتحت رہتے ہوئے لوگ اس کے خلاف سراٹھاتے بخاری کتاب الفتن ومسلم كتاب الامارة ے : بخاری کتاب الفتن باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا بخاری کتاب الفتن باب إِذَا قَالَ عِنْدَ قَوْمٍ شَيْئًا