سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 723
۷۲۳ کے قطع کر دینے کو جائز کر دینا مذہب کی روح کے بالکل منافی ہے اور اس کے نتیجہ میں روحانی تعلق اور صلحاء کی بیعت و صحبت کی غرض و غایت بالکل فوت ہو جاتی ہے اور مذہب میں ایک ایسی ناجائز آزادی کا دروازہ کھل جاتا ہے جس کا آخری نتیجہ سوائے لامذہبی اور بے دینی کے اور کچھ نہیں۔لیکن اس کے مقابلہ میں دنیوی امراء کا معاملہ بالکل جدا گانہ ہے۔ان کے تعلق کی بنیا د عقیدت واخلاص پر نہیں ہوتی بلکہ محض سیاسی مصالح پر ہوتی ہے اور نہ ان کے میعادی انتخاب یا عزل سے کوئی براہ راست دینی فتنہ پیدا ہوتا ہے۔اس لئے محض سیاسی حکام کے متعلق اسلام نے کوئی خاص پابندی عائد نہیں کی یعنی اس معاملہ میں لوگ آزا در کھے گئے ہیں کہ اگر وہ اپنے حالات کے ماتحت ضروری خیال کریں تو سیاسی حکام کے انتخاب کو میعادی کر دیں یا اگر انتہائی حالات کے پیدا ہو جانے پر ضروری سمجھیں تو مناسب طریق پر ان کے عزل کے لئے ساعی ہوں۔اسلامی اطاعت کا میعار لیکن چونکہ اسلام فتنوں کے سد باب اور امن کے قیام کا نہایت زبر دست حامی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم میں اس بات پر بہت زور دیا گیا ہے کہ خروج عن الطاعت اور عزل کا سوال سوائے انتہائی حالات کے نہیں اٹھنا چاہئے ا اور لوگوں کے لئے لازم ہے کہ حتی الوسع اپنے امیر کی فرمانبرداری اور اطاعت کے طریق سے خارج ہونے کا خیال دل میں نہ لائیں بلکہ اس معاملہ میں یہاں تک تاکید کی گئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ لوگوں کو چاہئے کہ اپنے حقوق کو غصب ہوتا دیکھ کر بھی صبر سے کام لیں۔اور اپنے امراء کی طرف سے ظلم اور تعدی تک برداشت کریں مگر بغاوت اور تفرقہ کے راستے پر قدم زن نہ ہوں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: سَتَرَوْنَ بَعْدِى أَثَرَةً وَّامُورًا تُنْكِرُوْنَهَا قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ اَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ یعنی اے مسلمانو! میرے بعد ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ تم پر ایسے ایسے لوگ امیر بنیں گے جو تمہارے حقوق غصب کریں گے اور ایسی ایسی باتیں کریں گے جو بہت ناپسندیدہ ہوں گی اور تمہیں اوپری لگیں گی۔صحابہ نے عرض کیا تو پھر یا رسول اللہ ! ایسے حالات میں آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں۔آپ نے فرمایا تم اپنے امیروں کے حقوق انہیں ادا کرو اور اپنے حقوق خدا سے مانگو۔“ پھر فرماتے ہیں: بخاری کتاب الفتن باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم سَتَرَوْنَ بَعْدِى