سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 687 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 687

YAZ عہد لیا کہ اب جب تک اسلام کو نیست و نابود نہ کر لیں گے واپس نہیں جائیں گے۔ایسے خطرناک وقت میں جس کا ایک مختصر خاکہ اوپر گزر چکا ہے۔یہود کے تیسرے قبیلہ بنوقریظہ نے کیا کیا؟ اور یہ قبیلہ وہ تھا۔جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بنونضیر کے موقع پر ان کی غداری کو معاف کر کے خاص احسان کیا تھا۔اور پھر دوسرا احسان ان پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ باوجود اس کے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے قبل بنو نضیر سے مرتبہ اور حقوق میں ادنیٰ سمجھے جاتے تھے یعنی اگر بنونضیر کا کوئی آدمی بنوقریظہ کے ہاتھ سے قتل ہو جا تا تھا تو قاتل کو قصاص میں قتل کیا جاتا تھا، لیکن اگر بنوقریظہ کا کوئی آدمی بنو نضیر کے ہاتھ سے قتل ہو جا تا تھا تو محض دیت کی ادائیگی کافی سمجھی جاتی تھی، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کو دوسرے شہریوں کے ساتھ برابری کے حقوق عطا کئے۔مگر با وجود ان عظیم الشان احسانوں کے بنو قریظہ نے پھر بھی غداری کی اور غداری بھی ایسے نازک وقت میں کی جس سے زیادہ نازک وقت مسلمانوں پر کبھی نہیں آیا۔بنو قینقاع کی مثال ان کے سامنے تھی انہوں نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا۔بنو نضیر کا واقعہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہوا تھا انہوں نے اس سے سبق حاصل نہیں کیا اور کیا تو کیا کیا ؟ یہ کیا کہ اپنے معاہدہ کو بالائے طاق رکھ کر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات کو فراموش کر کے عین اس وقت جبکہ تین ہزار مسلمان نہایت بے سروسامانی اور بے بسی کی حالت میں کفار کے دس پندرہ ہزار جرار اور خونخوارا شکر سے گھرے ہوئے بیٹھے تھے اور اپنی بیچارگی کو دیکھ کر ان کے کلیجے منہ کو آرہے تھے اور موت انہیں اپنے سامنے دکھائی دیتی تھی۔وہ اپنے قلعوں میں سے نکلے اور مسلمان مستورات اور بچوں پر عقب سے حملہ آور ہو گئے اور مسلمانوں کے اتحاد سے منحرف ہو کر اس خونی اتحاد کی شمولیت اختیار کی جس کا اصل الاصول اسلام اور بانی اسلام کو نیست و نابود کرنا تھا ہاں اس بانی اسلام کو جس کا مدینہ میں آنے کے بعد پہلا کام یہ تھا کہ اس نے ان یہود کو اپنا دوست اور معاہد بنایا اور یہود کا پہلا کام یہ تھا کہ انہوں نے اسے اپنا دوست اور معاہد مان کر اسے اپنی جمہوریت کا صدر تسلیم کیا۔اندریں حالات بنو قریظہ کا یہ فعل صرف ایک بدعہدی اور غداری ہی نہیں تھا بلکہ ایک خطر ناک بغاوت کا بھی رنگ رکھتا تھا اور بغاوت بھی ایسی کہ اگر ان کی تدبیر کامیاب ہو جاتی تو مسلمانوں کی جانوں اور ان کی عزت و آبرو اور ان کے دین و مذہب کا یقیناً خاتمہ تھا۔پس بنو قریظہ کسی ایک جرم کے مرتکب نہیں ہوئے بلکہ وہ بے وفائی اور احسان فراموشی کے مرتکب ہوئے۔بدعہدی اور غداری کے مرتکب ہوئے۔بغاوت اور اقدام قتل کے ابو داؤد بحوالہ تلخيص الصحاح جلد اباب سورۃ مائده