سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 688
۶۸۸ مرتکب ہوئے اوران جرموں کا ارتکاب انہوں نے ایسے حالات میں کیا جو ایک جرم کو بھیا نک سے بھیانک صورت دے سکتے ہیں اور دنیا کی کوئی غیر متعصب عدالت ان کے مقدمہ میں موجبات رعایت کا عنصر نہیں پاسکتی۔ایسے حالات میں ان کی سزا سوائے اس کے کیا ہو سکتی تھی جو دی گئی۔ظاہر ہے کہ امکانی طور پر صرف تین سزائیں ہی دی جا سکتی تھیں۔اوّل مدینہ میں ہی قید یا نظر بندی۔دوسرے جلا وطنی جیسا کہ بنو قینقاع اور بنونضیر کے معاملہ میں ہوا۔تیسرے جنگجو آدمیوں کا قتل اور باقیوں کی قید یا نظر بندی۔اب انصاف کے ساتھ غور کرو کہ اس زمانہ کے حالات کے ماتحت مسلمانوں کے لئے کون سا طریق کھلا تھا۔ایک دشمن قوم کا اپنے شہر میں قید رکھنا اس زمانہ کے لحاظ سے بالکل بیرون از سوال تھا۔کیونکہ اوّل تو قید کے ساتھ ہی قیدیوں کی رہائش اور خوراک کی ذمہ داری مسلمانوں پر عائد ہوتی تھی جس کے برداشت کرنے کی ان میں ہرگز طاقت نہیں تھی۔دوسرے اس زمانہ میں کوئی جیل خانے وغیرہ بھی نہیں ہوتے تھے اور قیدیوں کے متعلق یہی دستور تھا کہ وہ فاتح قوم کے آدمیوں میں تقسیم کر دئے جاتے تھے جہاں وہ عملاً بالکل آزا در بہتے تھے۔ایسے حالات میں ایک پرلے درجہ کے معاند اور سازشی گروہ کا مدینہ میں رہنا اپنے اندر نہایت خطرناک احتمالات رکھتا تھا اور اگر بنو قریظہ پر یہ فیصلہ جاری کیا جاتا تو یقیناً اس کے معنے یہ ہوتے کہ فتنہ انگیزی اور مفسدہ پردازی اور شرارت اور خفیہ ساز باز کے لئے تو ان کو وہی آزادی حاصل رہتی جو پہلے تھی البتہ ان کے اخراجات کی ذمہ داری مسلمانوں پر آجاتی یعنی پہلے اگر وہ اپنا کھاتے تھے اور مسلمانوں کا گلا کاٹتے تھے تو آئندہ وہ کھاتے بھی مسلمانوں کا (جن کے پاس اس وقت اپنے کھانے کے لئے بھی نہیں تھا ) اور گلا بھی مسلمانوں کا کاٹتے اور مسلمانوں کے گھروں میں اور ان کے ساتھ مخلوط ہو کر رہنے سہنے کی وجہ سے جو دوسرے خطرات ہو سکتے تھے وہ مزید برآں تھے۔اندریں حالات میں نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی عق یہ رائے رکھ سکتا ہے کہ بنو قریظہ کو یہ سزادی جاسکتی تھی۔اب رہی دوسری سزا یعنی جلا وطنی۔سو یہ سزا بے شک اس زمانہ کے لحاظ سے دشمن کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے ایک عمدہ طریق سمجھی جاتی تھی مگر بنو نضیر کی جلاوطنی کا تجر بہ بتا تا تھا کہ کم از کم جہاں تک یہود کا تعلق تھا یہ طریق کسی صورت میں پہلے طریق سے کم خطرناک نہیں تھا۔یعنی یہود کو مدینہ سے باہر نکل جانے کی اجازت دے دینا سوائے اس کے کوئی معنی نہیں رکھتا تھا کہ نہ صرف یہ کہ عملی اور جنگجو معاندین اسلام کی تعداد میں اضافہ ہو جاوے بلکہ دشمنان اسلام کی صف میں ایسے لوگ جاملیں جو اپنی خطرناک شخص عظمند