سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 652
۶۵۲ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھوک کی شدت کی وجہ سے سخت تکلیف معلوم ہوتی ہے۔کیا تمہارے پاس کھانے کے لئے کچھ ہے؟ اس نے کہا ہاں کچھ جو کا آتا ہے اور ایک بکری ہے۔جابر کہتے ہیں کہ اس پر میں نے بکری کو ذبح کیا اور آٹے کو گوندھا اور پھر اپنی بیوی سے کہا کہ تم کھانا تیار کرو۔میں رسول اللہ کی خدمت میں جا کر عرض کرتا ہوں کہ تشریف لے آئیں۔میری بیوی نے کہا دیکھنا مجھے ذلیل نہ کرنا۔کھانا تھوڑا ہے رسول اللہ کے ساتھ زیادہ لوگ نہ آئیں۔جابر کہتے ہیں کہ میں گیا اور میں نے آہستگی کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میرے پاس کچھ گوشت اور جو کا آٹا ہے جن کے پکانے کے لئے میں اپنی بیوی سے کہہ آیا ہوں آپ اپنے چند اصحاب کے ساتھ تشریف لے چلیں اور کھانا تناول فرما ئیں۔آپ نے فرمایا۔کھانا کتنا ہے میں نے عرض کیا کہ اس اس قدر ہے۔آپ نے فرمایا بہت ہے۔پھر آپ نے اپنے اردگرد نگاہ ڈال کر بلند آواز سے فرمایا اے انصار و مہاجرین کی جماعت! چلو جابر نے ہماری دعوت کی ہے چل کر کھانا کھالو۔اس آواز پر کوئی ایک ہزار فاقہ مست صحابی آپ کے ساتھ ہو لئے۔آپ نے جابر سے فرمایا کہ تم جلدی جلدی جاؤ اور اپنی بیوی سے کہہ دو کہ جب تک میں نہ آلوں ہنڈیا کو چولہے پر سے نہ اتارے اور نہ ہی روٹیاں پکانا شروع کرے۔جابر نے جلدی سے جا کر اپنی بیوی کو اطلاع دی اور وہ بیچاری سخت گھبرائی کہ کھانا تو صرف چند آدمیوں کے اندازہ کا ہے اور آرہے ہیں اتنے لوگ ! اب کیا ہوگا۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پہنچتے ہی بڑے اطمینان کے ساتھ ہنڈیا اور آٹے کے برتن پر دعا فرمائی اور پھر فرمایا اب روٹیاں پکانا شروع کر دو۔اس کے بعد آپ نے آہستہ آہستہ کھانا تقسیم کرنا شروع فرما دیا۔جابر روایت کرتے ہیں کہ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی کھانے سے سب لوگ سیر ہو کر اٹھ گئے اور ا بھی ہماری ہنڈیا اسی طرح اہل رہی تھی اور آٹا اسی طرح پک رہا تھا۔معجزہ کی حقیقت یہ واقعہ بخاری کے علاوہ اور بھی بہت سی کتب حدیث اور کتب تاریخ میں بیان ہوا ہے اور چونکہ اصول شہادت وروایت کے لحاظ سے یہ واقعہ بالکل صحیح قرار پاتا ہے اور اس کے تمام راوی ہر طرح قابل اعتماد ہیں اور ابتدائی راوی اپنا چشم دید واقعہ بیان کرتے ہیں اس لئے باوجود اس کے کہ اس روایت میں ایک ایسی بات بیان کی گئی ہے جو عام اور معروف قانون قدرت کے خلاف ہے، میں نے اسے اپنے اس تاریخی بیان میں درج کرنے میں تامل محسوس نہیں کیا۔دراصل اس قسم ل : بخاری کتاب المغازی حالات غزوہ احزاب و فتح الباری ۷ صفحه ۳۰۴ تا ۳۰۷