سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 651
۶۵۱ نہیں آتا۔اس وقت آپ کا بھی یہ حال تھا کہ بھوک کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھ رکھا تھا مگر آپ فوراوہاں تشریف لے گئے اور ایک کدال لے کر اللہ کا نام لیتے ہوئے اس پتھر پر ماری۔لوہے کے لگنے سے پتھر میں سے ایک شعلہ نکلا جس پر آپ نے زور کے ساتھ اللہ اکبر کہا اور فرمایا کہ مجھے مملکت شام کی کنجیاں دی گئی ہیں اور خدا کی قسم اس وقت شام کے سرخ محلات میری آنکھوں کے سامنے ہیں۔اس ضرب سے وہ پتھر کسی قدر شکستہ ہو گیا۔دوسری دفعہ آپ نے پھر اللہ کا نام لے کر کدال چلائی اور پھر ایک شعلہ نکلا جس پر آپ نے پھر اللہ اکبر کہا اور فرمایا اس دفعہ مجھے فارس کی کنجیاں دی گئی ہیں اور مدائن کے سفید محلات مجھے نظر آرہے ہیں۔اس دفعہ پھر کسی قدر زیادہ شکستہ ہو گیا۔تیسری دفعہ آپ نے پھر کدال ماری جس کے نتیجہ میں پھر ایک شعلہ نکلا اور آپ نے پھر اللہ اکبر کہا اور فرمایا اب مجھے یمن کی کنجیاں دی گئی ہیں اور خدا کی قسم صنعاء کے دروازے مجھے اس وقت دکھائے جارہے ہیں۔اس دفعہ وہ پتھر بالکل شکستہ ہوکر اپنی جگہ سے گر گیا اور ایک روایت میں یوں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر موقع پر بلند آواز سے تکبیر کہی اور پھر بعد میں صحابہ کے دریافت کرنے پر آپ نے یہ کشوف بیان فرمائے۔اور مسلمان اس عارضی روک کو دور کر کے پھر اپنے کام میں مصروف ہو گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ نظارے عالم کشف سے تعلق رکھتے تھے۔گو یا اس تنگی کے وقت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو مسلمانوں کی آئندہ فتوحات اور فراخیوں کے مناظر دکھا کر صحابہ میں امید و شگفتگی کی روح پیدا فرمائی مگر بظاہر حالات یہ وقت ایسا تنگی اور تکلیف کا وقت تھا کہ منافقین مدینہ نے ان وعدوں کو سن کر مسلمانوں پر پھبتیاں اڑائیں کہ گھر سے باہر قدم رکھنے کی طاقت نہیں اور قیصر و کسریٰ کی مملکتوں کے خواب دیکھے جارہے ہیں۔تے مگر خدا کے علم میں یہ ساری نعمتیں مسلمانوں کے لئے مقدر ہو چکی تھیں۔چنانچہ یہ وعدے اپنے اپنے وقت پر یعنی کچھ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری ایام میں اور زیادہ تر آپ کے خلفاء کے زمانہ میں پورے ہوکر مسلمانوں کے از دیا دایمان وامتنان کا باعث ہوئے۔اسی موقع پر ایک مخلص صحابی جابر بن عبد اللہ نے آپ کے چہرہ پر بھوک کی وجہ سے کمزوری اور نقاہت کے آثار دیکھ کر آپ سے اپنے گھر جانے کی اجازت لی۔اور گھر آکر اپنی بیوی سے کہا کہ لے بخاری کتاب المغازی حالات غزوہ خندق : احمد و نسائی و طبرائی و بیہقی بحوالہ فتح الباری جلد کے صفحیم ۳۰۵،۳۰ نیز زرقانی جلد ۲ صفحه ۱۱۰،۱۰۹ ابن ہشام