سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 625
۶۲۵ ہر انصاف پسند شریف انسان کے نزدیک محض یہ منظر ہی اس بات کی ایک دلیل ہے کہ آپ کی یہ شادیاں آپ کے فرائض نبوت کا حصہ تھیں جو آپ نے اپنی خانگی خوشی کو برباد کرتے ہوئے تبلیغ وتربیت کی اغراض کے ماتحت کیں۔ایک برا آدمی دوسرے کے افعال میں بری نیت تلاش کرتا ہے اور اپنی گندی حالت کی وجہ سے بسا اوقات دوسرے کی نیک نیت کو سمجھ بھی نہیں سکتا مگر ایک شریف انسان اس بات کو جانتا اور سمجھتا ہے کہ بسا اوقات ایک ہی فعل ہوتا ہے جسے ایک گندہ آدمی بری نیت سے کرتا ہے مگر اسی کو ایک نیک آدمی نیک اور پاک نیت سے کر سکتا ہے اور کرتا ہے۔میں اس موقع پر یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ اسلام میں شادی کی غرض یہ نہیں ہے کہ مرد اور عورت اپنی نفسانی خواہشات کے پورا کرنے کے لئے اکٹھے ہوسکیں بلکہ گو نسل انسانی کے بقا کے لئے مرد و عورت کا اکٹھا ہونا نکاح کی ایک جائزہ غرض ہے مگر اس میں بہت سی اور پاکیزہ اغراض بھی مدنظر ہیں۔پس ایک ایسے انسان کی شادیوں کی وجہ تلاش کرتے ہوئے جس کی زندگی کا ہر حرکت وسکون اس کی بے نفسی اور پاکیزگی پر ایک دلیل ہے۔گندے آدمیوں کی طرح گندے خیالات کی طرف مائل ہونے لگنا اس شخص کو تو ہر گز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا جس کے متعلق رائے لگائی جاتی ہے مگر رائے لگانے والے کے اپنے اندرونہ کا آئینہ ضرور سمجھا جاسکتا ہے۔پس اس سے زیادہ میں اس اعتراض کے جواب میں کچھ نہیں کہوں گا۔والله المستعان على ما يصفون۔کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے میور صاحب اور مارگولیس صاحب نے اس موقع پر یہ مفید مطلب وحی اتارلیا کرتے تھے؟ طعن بھی کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر اپنے مفید مطلب وحی اتارلی۔یعنی جب زینب کے ساتھ شادی کی خواہش پیدا ہوئی تو اسے جائز کرنے اور لوگوں کے اعتراض سے بچنے کے لئے الہام کی آڑ لے لی اور اس میں ان کا اشارہ یہ ہے کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کی طرف سے وحی والہام وغیرہ نہیں ہوتے تھے بلکہ نعوذ باللہ آپ خود ہی اپنی طرف سے الہام بنا کر خدا کی طرف منسوب کر دیتے تھے۔اس سوال کے مذہبی پہلو سے تو بحیثیت مؤرخ ہونے کے میرا کوئی سروکار نہیں ہے مگر یہ خیال تاریخی طور پر غلط اور خلاف واقعہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ اپنے مفید مطلب وحی ہو جایا کرتی تھی۔آپ کی زندگی اس قسم کی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ بسا اوقات آپ کی ذاتی خواہش کے خلاف وحی نازل ہوتی تھی۔چنانچہ یہی قصہ اس کی ایک روشن مثال ہے۔قرآن شریف صاف فرماتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زینب کے ساتھ شادی کرنے سے خائف تھے اور اسے حتی الوسع ٹالنا چاہتے تھے