سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 626
۶۲۶ مگر اللہ تعالیٰ نے حکماً آپ کو اس طرف مائل کیا بلکہ ایک گونہ تادیب بھی فرمائی کہ تَخْشَى النَّاسَ وَالله أَحَى أَنْ تَخْشَهُ لا یعنی اے نبی ! تم لوگوں کی وجہ سے خائف ہو حالانکہ صرف ہم ہی اس بات کے حق دار ہیں کہ ہم سے ڈرا جاوے۔پس غور کیا جاوے تو جس قصہ کے ضمن میں میور صاحب نے ایک جھوٹی روایت پر بنا رکھ کر یہ اعتراض اٹھایا ہے وہی اسے جھوٹا ثابت کر رہا ہے۔اسی طرح قرآن شریف میں آتا ہے کہ جب غزوہ تبوک کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض منافقوں کو پیچھے رہنے کی اجازت دے دی تو اس پر یہ وحی الہی نازل ہوئی کہ عَفَا اللَّهُ عَنْكَ لِمَ أَذِنْتَ لَهُمْ یعنی اے نبی ! خدا تمہیں معاف فرمائے تم نے انہیں کیوں اجازت دی؟ ہم تو اس موقع پر مومن و منافق میں امتیاز پیدا کرنا چاہتے تھے۔اسی طرح جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی بن سلول رئیس المنافقین کا جنازہ پڑھ دیا اور آپ کی رائے تھی کہ اس میں کوئی حرج نہیں تو اس پر یہ وحی الہی نازل ہوئی کہ لَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ " یعنی " آئندہ ان منافقوں میں کسی کا جنازہ نہ پڑھو۔اور نہ کسی کی قبر پر دعا مانگو کیونکہ دراصل وہ کافر ہیں اور خدا کی نافرمانی کی حالت میں مرتے ہیں۔اسی طرح بخاری میں آتا ہے کہ جب آپ نے غزوہ احد میں زخمی ہونے پر ایسے طریق پر دعا کی جو قریش کے خلاف ایک گونہ بددعا کا رنگ تھا تو اس پر یہ قرآنی آیت اتری کہ لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ - یعنی تمہیں اس معاملہ سے سروکار نہیں ہونا چاہئے کہ ہم کسے چھوڑتے اور کسے عذاب دیتے ہیں۔اسی طرح جب آپ کی بیویوں کی تعداد اس حد تک پہنچ گئی جو خدائی علم میں ضروری تھی تو آپ پر یہ وحی نازل ہوئی کہ اب اس کے بعد تمہیں کسی اور شادی کی اجازت نہیں ہے۔الغرض یہ ایک بالکل غلط اور بے بنیاد خیال ہے کہ آپ اپنی مرضی کے مطابق وحی اتار لیا کرتے تھے اور یہ اعتراض وہی شخص کر سکتا ہے جو تاریخ اسلامی سے قطع نا بلد ہے۔پھر زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ میور صاحب اور مارگولیس صاحب تو زینب کی شادی کے موقع پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مفید مطلب وحی اتار لی مگر حدیث میں یہ آتا ہے کہ چونکہ اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منشا اور ارادے کے بالکل خلاف وحی نازل ہوئی تھی اس لئے اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کوئی وحی چھپانی ہوتی تو ضرور اس وحی کو چھپاتے جو آپ کی مرضی سورۃ احزا ۳۸ : ،، : سورة توبة : ۴۳ : سورة توبة : ۸۴ بخاری حالات احد و کتاب التفسیر سورۃ احزاب : ۵۳