سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 624
۶۲۴ کو اپنے قومی دین کا مخرب خیال کر کے آپ کے پاس عتبہ بن ربیعہ کو بطور ایک وفد کے بھیجا اور آپ سے پرزور استدعا کی کہ آپ اپنی ان کوششوں سے رک جائیں اور دولت اور ریاست کی طمع دینے کے علاوہ ایک یہ درخواست بھی پیش کی کہ اگر آپ کسی اچھی لڑکی کے ساتھ شادی کر کے ہم سے خوش ہو سکتے ہیں اور ہمارے دین کو برا بھلا کہنے اور اس نئے دین کی تبلیغ سے باز رہ سکتے ہیں تو آپ جس لڑکی کو پسند کریں ہم آپ کے ساتھ اس کی شادی کئے دیتے ہیں۔اس وقت آپ کی عمر بھی کوئی ایسی زیادہ نہیں تھی۔پھر جسمانی طاقت بھی بعد کے زمانہ کی نسبت یقیناً بہتر حالت میں تھی۔مگر جو جواب آپ نے رؤساء مکہ کے اس نمائندہ کو دیا وہ تاریخ کا ایک کھلا ہوا ورق ہے جس کے دوہرانے کی اس جگہ ضرورت نہیں۔یہ تاریخی واقعہ بھی میور صاحب کی نظر سے اوجھل نہیں تھا کہ مکہ کے لوگ آپ کو آپ کی بعثت سے قبل یعنی چالیس سال کی عمر تک ایک بہترین اخلاق والا انسان سمجھتے تھے۔نے مگر با وجود ان سب شہادات کے میور صاحب کا یہ لکھنا کہ پچپن سال کی عمر کے بعد جب ایک طرف آپ کی جسمانی طاقتوں میں طبعا انحطاط رونما ہونے لگا اور دوسری طرف آپ کے مشاغل اور ذمہ داریاں اس قدر بڑھ گئیں جو ایک مصروف سے مصروف انسان کے مشاغل کو شرماتی ہیں تو آپ عیش وعشرت میں مبتلا ہو گئے ہرگز کوئی غیر متعصبانہ ریمارک نہیں سمجھا جا سکتا ! کہنے کو تو کوئی شخص جو کچھ بھی کہنا چاہے کہ سکتا ہے اور اس کی زبان اور قلم کو روکنے کی دوسروں میں طاقت نہیں ہوتی۔مگر عقل مند آدمی کو چاہئے کہ کم از کم ایسی بات نہ کہے جسے دوسروں کی عقل سلیم تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ ہو۔میور صاحب اور ان کے ہم خیال لوگ اگر اپنی آنکھوں سے تعصب کی پٹی اتار کر دیکھتے تو انہیں معلوم ہو جا تا کہ محض یہ بات ہی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شادیاں آپ کے بڑھاپے کی عمر کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ جسمانی اغراض کے ماتحت نہ تھیں بلکہ ان کی تہ میں کوئی دوسری اغراض مخفی تھیں۔خصوصاً جبکہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ آپ نے اپنی جوانی کے ایام ایک ایسی حالت میں گزارے جس کی وجہ سے آپ نے اپنوں اور بیگانوں سے امین کا خطاب حاصل کیا۔مجھے اس بات کے مطالعہ سے ایک روحانی سرور حاصل ہوتا ہے کہ آپ کی عمر کے جس زمانہ میں آپ کی یہ شادیاں ہوئیں وہ وہ زمانہ ہے جب کہ آپ پر آپ کے فرائض نبوت کا سب سے زیادہ بار تھا اور اپنی ان لا تعداد اور بھاری ذمہ داریوں کی ادائیگی میں آپ بالکل محوہور ہے تھے۔اور میرے نزدیک اور میں سمجھتا ہوں کہ سیرت حلبیہ جلد اصفحه ۳۲۳ نیز طبرانی و ابن ابی حاتم بحوالہ لباب النقول تفسیر سورۃ کافرون : میور صفحه ۲۰،۱۸