سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 556
سے ملتا تھا ابن قمیہ نے سمجھا کہ میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو مار لیا ہے۔یا یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی طرف سے یہ تجویز محض شرارت اور دھوکا دہی کے خیال سے ہو۔بہر حال اس نے مصعب کے شہید ہوکر گرنے پر شور مچادیا کہ میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو مارلیا ہے۔اس خبر سے مسلمانوں کے رہے سہے اوسان بھی جاتے رہے۔اور ان کی جمعیت بالکل منتشر ہوگئی اور بہت سے صحابی سراسمیہ ہو کر میدان سے بھاگ نکلے۔اس وقت مسلمان تین حصوں میں منقسم تھے۔ایک گروہ وہ تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر سن کر میدان سے بھاگ گیا تھا، مگر یہ گروہ سب سے تھوڑا تھا۔ان لوگوں میں حضرت عثمان بن عفان بھی شامل تھے۔" مگر جیسا کہ قرآن شریف میں ذکر آتا ہے اس وقت کے خاص حالات اور ان لوگوں کے دلی ایمان اور اخلاص کو مد نظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا۔ان لوگوں میں سے بعض مدینہ تک جا پہنچے اور اس طرح مدینہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خیالی شہادت اور لشکر اسلام کی ہزیمت کی خبر پہنچ گئی جس سے تمام شہر میں ایک کہرام مچ گیا اور مسلمان مرد، عورتیں بچے بوڑھے نہایت سراسیمگی کی حالت میں شہر سے باہر نکل آئے اور احد کی طرف روانہ ہو گئے۔اور بعض تو جلد جلد دوڑتے ہوئے میدان جنگ میں پہنچے اور اللہ کا نام لے کر دشمن کی صفوں میں گھس گئے۔دوسرے گروہ میں وہ لوگ تھے جو بھاگے تو نہیں تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر سن کر یا تو ہمت ہار بیٹھے تھے اور یا اب لڑنے کو بریکار سمجھتے تھے اور اس لئے میدان سے ایک طرف ہٹ کر سرنگوں ہو کر بیٹھ گئے تھے۔تیسرا گروہ وہ تھا جو برابر لڑ رہا تھا۔ان میں سے کچھ تو وہ لوگ تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد جمع تھے اور بے نظیر جان نثاری کے جوہر دکھا رہے تھے اور اکثر وہ تھے جو میدان جنگ میں منتشر طور پر لڑ رہے تھے۔ان لوگوں اور نیز گروہ ثانی کے لوگوں کو جوں جوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زندہ موجود ہونے کا پتہ لگتا جاتا تھا یہ لوگ دیوانوں کی طرح لڑتے بھڑتے آپ کے ارد گرد جمع ہوتے جاتے تھے۔اس وقت جنگ کی حالت یہ تھی کہ قریش کا لشکر گویا سمندر کی مہیب لہروں کی طرح چاروں طرف سے بڑھا چلا آتا تھا اور میدان جنگ میں ہر طرف سے تیر اور پتھروں کی بارش ہو رہی تھی۔جان شاروں نے اس خطرہ کی حالت کو دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد گھیرا ڈال کر آپ کے جسم ابن ہشام زرقانی زرقانی بخاری حالات احد ۵: سورة آل عمران : ۱۵۶ زرقانی