سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 557 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 557

مبارک کو اپنے بدنوں سے چھپا لیا، مگر پھر بھی جب کبھی حملہ کی رو اٹھتی تھی تو یہ چند گنتی کے آدمی ادھر ادھر دھکیل دئے جاتے تھے اور ایسی حالت میں بعض اوقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قریباً اکیلے رہ جاتے تھے۔کسی ایسے ہی موقع پر حضرت سعد بن ابی وقاص کے مشرک بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا ایک پتھر آپ کے چہرہ مبارک پر لگا۔جس سے آپ کا ایک دانت ٹوٹ گیا اور ہونٹ بھی زخمی ہوا۔ابھی زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ ایک اور پتھر جو عبداللہ بن شہاب نے پھینکا تھا اس نے آپ کی پیشانی کو زخمی کیا اور تھوڑی دیر کے بعد تیسرا پتھر جوا بن قمیہ نے پھینکا تھا آپ کے رخسار مبارک پر آکر لگا جس سے آپ کے مغفر (خود) کی دو کڑیاں آپ کے رخسار میں چھ کر رہ گئیں۔سعد بن ابی وقاص کو اپنے بھائی عقبہ کے اس فعل پر اس قدر غصہ تھا کہ وہ کہا کرتے تھے کہ مجھے کبھی کسی دشمن کے قتل کے لئے اتنا جوش نہیں آیا جتنا مجھے اُحد کے دن عتبہ کے قتل کا جوش تھا۔اس وقت نہایت خطر ناک لڑائی ہورہی تھی اور مسلمانوں کے واسطے ایک سخت ابتلا اور امتحان کا وقت تھا اور جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر سن کر بہت سے صحابہ ہمت ہار چکے تھے اور ہتھیار پھینک کر میدان سے ایک طرف ہو گئے تھے۔انہی میں حضرت عمررؓ بھی تھے۔چنانچہ یہ لوگ اسی طرح میدان جنگ کے ایک طرف بیٹھے تھے کہ اوپر سے ایک صحابی انس بن نضر انصاری آگئے اور ان کو دیکھ کر کہنے لگے۔” تم لوگ یہاں کیا کرتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا۔”رسول اللہ نے شہادت پائی۔اب لڑنے سے کیا حاصل ہے؟ انس نے کہا۔یہی تو لڑنے کا وقت ہے تا جوموت رسول اللہ نے پائی وہ ہمیں بھی نصیب ہو اور پھر آپ کے بعد زندگی کا بھی کیا لطف ہے؟ اور پھر ان کے سامنے سعد بن معاذ آئے تو انہوں نے کہا۔”سعد مجھے تو پہاڑی سے جنت کی خوشبو آ رہی ہے۔“ یہ کہ کر انس دشمن کی صفوں میں گھس گئے اور لڑتے لڑتے شہید ہوئے۔جنگ کے بعد دیکھا گیا تو ان کے بدن پر اسی سے زیادہ زخم تھے اور کوئی پہچان نہ سکتا تھا کہ یہ کس کی لاش ہے۔آخر ان کی بہن نے ان کی انگلی دیکھ کر شناخت کیا۔جو صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع تھے انہوں نے جو جان نثاریاں دکھائیں تاریخ ان کی نظیر لانے سے عاجز ہے۔یہ لوگ پروانوں کی طرح آپ کے ارد گرد گھومتے تھے اور آپ کی خاطر اپنی جان پر کھیل رہے تھے۔جو وار بھی پڑتا تھا صحابہ اپنے اوپر لیتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بچاتے ابن ہشام ابن ہشام وزرقانی ے: طبری : ابن ہشام : بخاری حالات غزوه احد