سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 555
خوب تاک کر ان کی ناف کے نیچے اپنا چھوٹا سا نیزہ مارا جو لگتے ہی بدن کے پار ہو گیا۔حمزہ لڑکھڑاتے ہوئے گرے مگر پھر ہمت کر کے اٹھے اور ایک جست کر کے وحشی کی طرف بڑھنا چاہا مگر پھر لڑ کھڑا کر گرے اور جان دے دی اور اس طرح اسلامی لشکر کا ایک مضبوط باز وٹوٹ گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب حمزہ کے قتل کی اطلاع ملی تو آپ کو سخت صدمہ ہوا اور روایت آتی ہے کہ غزوہ طائف کے بعد جب حمزہ کا قاتل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا تو آپ نے اسے معاف تو فرما دیا۔مگر حمزہ کی محبت کا احترام کرتے ہوئے فرمایا کہ وحشی میرے سامنے نہ آیا کرے۔اس وقت وحشی نے اپنے دل میں یہ عہد کیا کہ جس ہاتھ سے میں نے رسول خدا کے چا کو قتل کیا ہے۔جب تک اس ہاتھ سے کسی بڑے دشمن اسلام کو تہ تیغ نہ کرلوں گا چین نہ لوں گا۔چنانچہ حضرت ابوبکر کے عہد خلافت میں اس نے جنگ یمامہ میں نبوت کے جھوٹے مدعی مسیلمہ کذاب کو قتل کر کے اپنے عہد کو پورا کیا۔اس گھمسان کے موقع پر وہ مسلمان عورتیں بھی جو اس غزوہ میں ساتھ تھیں پوری تندہی اور جانفشانی سے اپنے کام میں مصروف تھیں اور ادھر ادھر بھاگ کر صحابہ کو پانی پلانے اور زخمیوں کی خبر گیری کرنے اور اسی قسم کی دوسری خدمات سرانجام دے رہی تھیں۔ان خواتین میں حضرت عائشہ اور ام سلیم اور ام سلیط کے اسماء صحابہ کو پانی لا لا کر پلانے کی خدمت کی ضمن میں خاص طور پر مذکور ہوئے ہیں۔کے جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے یہ وقت مسلمانوں کے واسطے سخت پریشانی کا وقت تھا۔قریش کے لشکر نے قریباً چاروں طرف گھیرا ڈال رکھا تھا اور اپنے پے در پے حملوں سے ہر آن دباتا چلا آتا تھا۔اس پر بھی مسلمان شاید تھوڑی دیر بعد سنجل جاتے مگر غضب یہ ہوا کہ قریش کے ایک بہادر سپاہی عبد اللہ بن قمئہ نے مسلمانوں کے علمبردار مصعب بن عمیر پر حملہ کیا اور اپنی تلوار کے وار سے ان کا دایاں ہاتھ کاٹ گرایا۔مصعب نے فوراً دوسرے ہاتھ میں جھنڈا تھام لیا اور ابن قمئہ کے مقابلہ کے لئے آگے بڑھے۔مگر اس نے دوسرے وار میں ان کا دوسرا ہاتھ بھی قلم کر دیا۔اس پر مصعب نے اپنے دونوں کٹے ہوئے ہاتھوں کو جوڑ کر گرتے ہوئے اسلامی جھنڈے کو سنبھالنے کی کوشش کی اور اسے چھاتی سے چمٹا لیا۔جس پر ابن قمئہ نے ان پر تیسر اوار کیا اور اب کی دفعہ مصعب شہید ہو کر گر گئے۔جھنڈا تو کسی دوسرے مسلمان نے فوراً آگے بڑھ کر تھام لیا۔مگر چونکہ مصعب کا ڈیل ڈول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بخاری کتاب المغازی حالات احد بخاری حالات غزوہ احد بخاری کتاب المغازی حالات احد زرقانی