سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 499 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 499

۴۹۹ رسوم اور غلط عقائد کی عملی تر دید۔دوم بعض مناسب عورتوں کو آپ کی تربیت میں رکھ کر ان کے ذریعہ اسلامی شریعت کے اس حصہ کا استحکام جو مستورات کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور مسلمان عورتوں کی تعلیم و تربیت ؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے: فَلَمَّا قَضَى زَيْدُ مِنْهَا وَطَرَازَ وَجُنُكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ حَرَجٍ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَا بِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولًا LO یعنی ”اے رسول! جب تیرے مُنہ بنائے بیٹے زید بن حارثہ نے اپنی بیوی زینب کو طلاق دیدی تو ہم نے اس کی شادی کی تجویز خود تیرے ساتھ کر دی تا کہ اس ذریعہ سے یہ جاہلانہ رسم مٹ جاوے کہ منہ بلایا بیٹا اصل بیٹے کی طرح ہو جاتا ہے اور اس کی مطلقہ بیوی یا بیوہ بیٹا بنانے والے شخص کے لیے جائز نہیں ہوتی اور آئندہ کے لیے مومنوں کے دلوں میں اس امر کے متعلق کوئی دیدہ یا خلش باقی نہ رہے۔“ اس آیت میں پہلی غرض بیان کی گئی ہے اور وہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی نمونہ کے ذریعہ سے بعض ان جاہلانہ رسوم کا استیصال کیا جاوے جو عربوں کی طبیعت میں اس قدر راسخ ہو چکی تھیں کہ ان کا حقیقی استیصال بغیر اس کے ناممکن تھا کہ آپ اس معاملہ میں خود ایک عملی نمونہ قائم کریں ؛ چنانچہ متبنی بنانے کی رسم عرب میں بہت راسخ اور رائج تھی اور اس معاملہ میں الہی حکم نازل ہونے سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کو تینی بنایا ہوا تھا ، اس لیے جب یہ حکم نازل ہوا کہ کسی شخص کو محض منہ بولا بیٹا بنا لینے سے وہ اصل بیٹا نہیں ہو جاتا اور اس کے بعد یہ واقعہ پیش آگیا کہ زید بن حارثہ نے اپنی بیوی زینب بنت جحش کو طلاق دیدی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خدائی حکم کے ماتحت زینب کے ساتھ خود شادی فرمائی اور اس طرح اس جاہلانہ رسم کا استیصال کیا جو آپ کے عملی نمونہ کے بغیر پوری طرح مٹنی محال تھی۔علاوہ ازیں آپ نے زینب کے ساتھ شادی کر کے اس بات میں بھی عملی نمونہ قائم فرمایا کہ کسی طلاق شدہ عورت کے ساتھ شادی کرنا کوئی عیب کی بات نہیں ہے۔پھر فرماتا ہے: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيُوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَيَّحْكُنَ وَأُسَرِحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا وَإِنْ كُنْتُنَ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ سورۃ احزاب : ۳۸