سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 500 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 500

۵۰۰ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِيمًا۔۔يُنسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَاحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ وَأَقِمْنَ الصَّلوةَ وَاتِينَ الزَّكَوةَ وَاَطِعْنَ اللهَ وَرَسُولَهُ إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُظْهِرَكُمْ تَطْهِيرًا وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَى فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ أَيْتِ اللهِ وَالْحِكْمَةِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ لَطِيفَا خَبِيرًا : یعنی اے نبی ! تم اپنی بیویوں سے کہدو کہ اگر تمہیں یہ خواہش ہے کہ دنیا کی زندگی کا ساز وسامان تمہیں مل جاوے تو آؤ میں تمہیں دنیا کا مال و متاع دیئے دیتا ہوں ، مگر اس صورت میں تم میری بیویاں نہیں رہ سکتیں بلکہ پھر میں احسان و مروت کے ساتھ تمہیں رخصت کر دوں گا۔لیکن اگر تم خدا اور اس کے رسول کی خواہش رکھتی ہو اور آخرت کا اجر چاہتی ہو تو سن لو کہ تم میں سے ان نیکو کاروں کے لیے جو خدا کے منشا کو پورا کریں خدا نے بہت بڑا اجر تیار کیا ہے۔اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔اگر تم تقویٰ اختیار کرو اور نماز کو اس کی اصلی صورت میں قائم کرو اور زکوۃ دو اور خدا اور اس کے رسول کی پوری پوری اطاعت کرو کیونکہ خدا نے تمہیں ایک خاص کام کے لیے چنا ہے ) اے نبی کے اہل بیت ! اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم سے ہر قسم کی کمزوریوں اور نقصوں کو دور کر کے تمہیں خوب اچھی طرح پاک وصاف کر دے تاکہ تم ان آیات الہی اور ان حکمت کی باتوں کو لوگوں تک پہنچاؤ جو نبی کے ذریعہ سے تمہارے گھروں میں سنائی جاتی ہیں اور خدا تعالیٰ تمہارے ذریعہ سے یہ کام اس لیے لینا چاہتا ہے کہ وہ اگر بوجہ لطیف ہونے کے خود لوگوں کی نظروں سے اوجھل اور مخفی ہے تو بوجہ خبیر ہونے کے وہ لوگوں کی ضروریات سے آگاہ بھی ہے۔پس ضروری ہے کہ وہ ہدایت خلق کا کام انسانوں کے واسطے سے سرانجام دے۔اس آیت کریمہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تعدد ازدواج کی مخصوص غرض میں سے دوسری اور بڑی غرض بتائی گئی ہے یعنی یہ کہ آپ کے ساتھ مناسب مستورات کو بطور بیویوں کے رکھ کر انہیں مسلمان عورتوں کی تعلیم و تربیت کے لیے تیار کیا جاوے۔یہ وہ خاص الخاص غرض ہے جس کے ماتحت آپ کی شادیاں وقوع میں آئیں اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ ایک ایسی غرض ہے جو آپ کی ذات کے ساتھ مخصوص تھی اور اسی لیے عام مسلمانوں کے لیے جو حد بندی تعدد ازدواج کی مقرر کی گئی ہے اس سے آپ ۳۵ ، ۳۴ ، ۳۳ : : سورۃ احزاب : ۲۹ ، ۳۰ : سورۃ احزاب :