سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 340 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 340

۳۴۰ یہ بیرونی خطرات کا حال تھا اور خود مدینہ کے اندر یہ حالت تھی کہ ابھی تک ایک معتد بہ حصہ اوس وخزرج کا شرک پر قائم تھا اور گو وہ بظاہر اپنے بھائی بندوں کے ساتھ تھے لیکن ان حالات میں ایک مشرک کا کیا اعتماد کیا جاسکتا تھا۔پھر دوسرے نمبر پر منافقین تھے جو بظاہر اسلام لے آئے تھے مگر در پردہ وہ اسلام کے دشمن تھے اور مدینہ کے اندر ان کا وجود خطر ناک احتمالات پیدا کرتا تھا۔تیسرے درجہ پر یہود تھے جن کے ساتھ گوا ایک معاہدہ ہو چکا تھا مگر ان یہود کے نزدیک معاہدہ کی کوئی قیمت نہ تھی۔غرض اس طرح خود مدینہ کے اندر ایسا مواد موجود تھا جو مسلمانوں کے خلاف ایک مخفی ذخیرہ بارود سے کم نہ تھا اور قبائل عرب کی ذراسی چنگاری اس بارود کو آگ لگانے اور مسلمانان مدینہ کو بھک سے اڑا دینے کے لئے کافی تھی۔اس نازک وقت میں جس سے زیادہ نازک وقت اسلام پر کبھی نہیں آیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خدا کی وحی نازل ہوئی کہ اب تمہیں بھی ان کفار کے مقابلہ میں تلوار استعمال کرنی چاہئے جو تمہارے خلاف تلوار لے کر سراسر ظلم و تعدی سے میدان میں نکلے ہوئے ہیں اور جہاد بالسیف کا اعلان ہو گیا۔اس وقت لڑائی کے قابل مسلمانوں کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں تھی اور ان چند سونفوس میں بھی کثرت ان لوگوں کی تھی جو سخت درجہ کمزوری اور غربت کی حالت میں تھے اور بعض کو تو آئے دن فاقے کی نوبت رہتی تھی اور ان میں سے بہت کم ایسے تھے جو اپنے لئے لڑائی کا معمولی سامان تک مہیا کر سکتے تھے۔دوسری طرف فریق مقابل کا یہ حال تھا کہ مذہبی لحاظ سے تو بلا استثناء سارا ملک دشمن تھا۔عملاً بھی قریش کے علاوہ جن کی تعداد ہزار ہا نفوس پر مشتمل تھی اور جو دولت وثروت اور سامان حرب میں مسلمانوں سے کئی درجہ زیادہ مضبوط تھے بہت سے دوسرے قبائل عرب قریش کے پشت پناہ بن گئے تھے اور ان خطرات کی وجہ سے مسلمانوں کو راتوں کو نیند نہیں آتی تھی۔ایسی نازک حالت میں خدا کا یہ حکم نازل ہوا کہ اے مسلمانو! اب تم بھی ان کفار کے مقابلہ میں تلوار لے کر اٹھ کھڑے ہو۔اس جہاد کی غرض وغایت کے متعلق کسی قسم کے شبہ کی گنجائش نہیں چھوڑتا کیونکہ ایسی حالت میں صرف وہی شخص میدان میں نکل سکتا ہے جود و باتوں میں سے ایک کا ارادہ کر چکا ہو یا یہ کہ اب میں نے مرنا تو ہے ہی کیوں نہ مردوں کی طرح میدان میں جان دوں اور یا یہ کہ اب مرنے سے بچنے کا اگر کوئی امکانی ذریعہ ہو سکتا ہے تو صرف یہ کہ تلوار لے کر میدان میں نکل جاؤں اور پھر ہر چہ باداباد۔مسلمانوں کی ابتدائی لڑائیاں اسی آخر الذکر عزم کے ماتحت تھیں مگر باوجود اس خدائی حکم اور مسلمانوں کے اس اضطراری عزم کے اس وقت بہت سے کمزور دل مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ لڑائی کے خیال سے ان کے دل بیٹھے جاتے تھے۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے: