سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 341
۳۴۱ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً وَقَالُوْارَ بَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْلَا أَخَّرْتَنَا إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ یعنی جب مسلمانوں پر جہاد فرض کیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ کفار سے اتنا ڈرتا تھا کہ خدا کے ڈر سے بھی ان کا ڈر بڑھا ہوا تھا اور یہ لوگ کہتے تھے کہ اے رب ہمارے تو نے ابھی سے ہم پر جہاد کیوں فرض کر دیا اور کیوں ہمیں تھوڑی دیر اور مہلت نہ دی۔“ پھر فرماتا ہے: كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كَرُهُ لَكُمْ وَعَلَى اَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُـ وَعَلَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ O د یعنی اے مسلمانو! ہم جانتے ہیں کہ جہاد بالسیف تم پر ایسے وقت میں فرض کیا گیا ہے کہ وہ تمہارے لئے ایک مشکل اور تکلیف دہ کام ہے مگر یا درکھو ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو اپنے لئے موجب تکلیف سمجھو مگر دراصل وہ اچھی ہو۔یا تم ایک چیز کو اپنے لئے اچھا سمجھو مگر دراصل وہ بُری ہوا اور بیشک اللہ اس بات کو جانتا ہے مگر تم نہیں جانتے۔“ جہاد کے متعلق پہلی قرآنی آیت مؤرخین لکھتے ہیں کہ جہاد بالسیف کے متعلق سب سے پہلی آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ۱۲ صفر ۲ ہجری کے مطابق ۱۵/ اگست ۶۶۲۳ ۴ کو نازل ہوئی جبکہ آپ کو مدینہ میں تشریف لائے قریباً ایک سال کا عرصہ گزرا تھا اور وہ یہ آیت ہے: أذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ نُ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللهُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوتُ وَ مَسجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللهِ كَثِيرًا وَلَيَنْصُرَنَّ الله مَنْ يَنْصُرُهُ اِنَّ اللهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزُ اجازت دی جاتی ہے لڑنے کی مسلمانوں کو جن کے خلاف کفار نے تلوار اٹھائی ہے۔کیونکہ وہ ( مسلمان ) مظلوم ہیں اور ضرور اللہ تعالیٰ ان کی نصرت پر قادر ہے۔وہ ظلم کے : سورۃ نساء : ۷۸ : توفيقات الهاميه : سورة بقرة : ۲۱۷ ے : زرقانی ه: حج : ۴۰ - ۱