سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 339 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 339

۳۳۹ کے متولی ہونے کے قریش کا سارے قبائل عرب پر ایک خاص اثر تھا اس لئے قریش کی انگیخت سے کئی قبائل مسلمانوں کے جانی دشمن بن گئے اور مدینہ کا یہ حال ہوگیا کہ گویا اس کے چاروں طرف آگ ہی آگ ہے۔چنانچہ یہ روایت او پر گزرچکی ہے کہ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاَصْحَابُهُ الْمَدِينَةَ وَاوَتْهُمُ الْأَنْصَارُ رَمَتْهُمُ العَرَبُ عَنْ قَوْسٍ وَاحِدَةٍ فَكَانُوا لَا يَبِيتُونَ إِلَّا بِالسّلاح وَلَا يَصْبَحُونَ إِلَّا فِيْهِ وَقَالُوا أَتَرَوْنَ أَنَّا نَعِيْشُ حَتَّى نَبِيِّتُ امِنِينَ لَانَخَافُ إِلَّا اللَّهَ یعنی ابی بن کعب جو کبار صحابہ میں سے تھے بیان کرتے ہیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب مدینہ میں تشریف لائے اور انصار نے انہیں پناہ دی تو تمام عرب ایک جان ہو کر ان کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔چنانچہ ان دنوں مسلمانوں کا یہ حال تھا کہ خوف کی وجہ سے وہ راتوں کو بھی ہتھیار لگا لگا کر سوتے تھے اور دن کو بھی ہتھیار لگائے پھرتے تھے کہ کہیں کوئی اچانک حملہ نہ ہو جاوے اور وہ ایک دوسرے سے کہا کرتے تھے کہ دیکھئے ہم اس وقت تک بچتے بھی ہیں یا نہیں کہ ہمیں امن کی راتیں گزارنے کا موقع ملے گا اور خدا کے سوا کسی کا ڈر نہ رہے گا۔“ خودسرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال تھا کہ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ مَاقَدِمَ الْمَدِينَةَ يَسْهَرُ مِنَ اللَّيْلِ ” جب شروع شروع میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو دشمن کے حملہ کے خوف سے آپ عمو ماراتوں کو جاگا کرتے تھے۔“ اسی زمانے کے متعلق قرآن شریف فرماتا ہے: وَاذْكُرُوا إِذْ أَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُونَ فِي الْأَرْضِ تَخَافُونَ أنْ يَتَخَطَفَكُمُ النَّاسُ فَاوِيكُمْ وَأَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهِ وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ EO مسلمانو! وہ زمانہ یاد کرو جب تم تھوڑے تھے اور ملک میں بہت کمز ور سمجھے جاتے تھے اور تمہیں یہ خوف لگا رہتا تھا کہ لوگ تمہیں اچک کر تباہ کر دیں۔پھر خدا نے تمہیں پناہ دی اور اپنی نصرت سے تمہاری تائید فرمائی اور تمہارے لئے پاکیزہ رزق کے دروازے کھولے۔پس تمہیں شکر گزار ہوکر رہنا چاہئے۔“ ہے : حاکم وطبرانی بحوالہ لباب النقول نائی ۳ : سورۃ انفال : ۲۷