سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 252 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 252

۲۵۲ 66 مل کر اپنے قبیلہ والوں کی طرف گئے اور سعد نے اُن سے مخصوص عربی انداز میں پوچھا کہ اے بنی عبدالا شھل تم مجھے کیسا جانتے ہو؟ سب نے یک زبان ہو کر کہا۔”آپ ہمارے سردار اور سردار ابن سردار ہیں اور آپ کی بات پر ہمیں کامل اعتماد ہے۔سعد نے کہا۔” تو پھر میرے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں جب تک تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لاؤ اس کے بعد سعد نے انہیں اسلام کے اصول سمجھائے اور ابھی اس دن پر شام نہیں آئی تھی کہ تمام قبیلہ مسلمان ہو گیا اور سعد اور اسیڈ نے خود اپنے ہاتھ سے اپنی قوم کے بت نکال کر توڑے لے سعد بن معاذ اور اُسید بن الحضیر جو اس دن مسلمان ہوئے دونوں چوٹی کے صحابہ میں شمار ہوتے ہیں اور انصار میں تو لا ریب ان کا بہت ہی بلند پایہ تھا۔بالخصوص سعد بن معادؓ کو تو انصار مدینہ میں وہ پوزیشن حاصل ہوئی جو مہاجرین مکہ میں حضرت ابو بکر کو حاصل تھی۔یہ نوجوان نہایت درجہ مخلص، نہایت درجہ وفادار اور اسلام اور بانی اسلام کا ایک نہایت جاں نثار عاشق نکلا اور چونکہ وہ اپنے قبیلہ کا رئیس اعظم بھی تھا اور نہایت ذہین تھا۔اسلام میں اُسے وہ پوزیشن حاصل ہوئی جو صرف خاص بلکہ اخص صحابہ کو حاصل تھی اور لاریب اس کی جوانی کی موت پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ سعد کی موت پر تو رحمن کا عرش بھی حرکت میں آ گیا ہے۔ایک گہری صداقت پر مبنی تھا۔یے غرض اس طرح سرعت کے ساتھ اوس اور خزرج میں اسلام پھیلتا گیا۔یہودخوف بھری آنکھوں کے ساتھ یہ نظارے دیکھتے تھے اور دل ہی دل میں یہ کہتے تھے کہ خدا جانے کیا ہونے والا ہے۔یہ تو مدینہ کے خوش کن واقعات ہیں۔جو بیعت عقبہ اولیٰ کے بعد پیش آئے مگر ادھر مکہ میں یہ سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے واسطے نہایت تنگی اور سختی کا گذرا۔قریش دن بدن اپنے مظالم میں ترقی کرتے جاتے تھے خصوصاً جب ان کو مدینہ کے حالات سے اطلاع ہوئی تو ان کی دشمنی کی آگ بہت ہی بھڑک اٹھی اور اُنہوں نے آگے سے بھی بڑھ کر مظالم شروع کر دیے اور بے چارے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ ہو گیا۔بیعت عقبہ ثانیه ۱۳ نبوی اگلے سال یعنی ۱۳ نبوی کے ماہ ذی الحجہ میں حج کے موقع پر اوس اور خزرج کے کئی سو آدمی مکہ میں آئے۔اُن میں ستر شخص ایسے شامل تھے جو یا تو مسلمان ہو چکے تھے اور یا اب مسلمان ہونا چاہتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے مکہ له : ابن ہشام : بخاری