سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 251 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 251

۲۵۱ کے سردار تھے۔جب مدینہ میں اسلام کا چرچا ہوا تو سعد بن معاذ کو یہ برا معلوم ہوا اور انہوں نے اسے روکنا چاہا۔مگر چونکہ اسعد بن زرارہ سے ان کی بہت قریب کی رشتہ داری تھی یعنی وہ ایک دوسرے کے خالہ زاد بھائی تھے اور اسعد مسلمان ہو چکے تھے، اس لیے سعد بن معاذ خود براہ راست دخل دیتے ہوئے رکتے تھے کہ کوئی بدمزگی پیدا نہ ہو جائے۔لہذا انہوں نے اپنے ایک دوسرے رشتہ دار اسید بن الحضیر سے کہا کہ اسعد بن زرارہ کی وجہ سے مجھے تو کچھ حجاب ہے مگر تم جا کر مصعب کو روک دو کہ ہمارے لوگوں میں یہ بے دینی نہ پھیلائیں اور اسعد سے بھی کہ دو کہ یہ طریق اچھا نہیں ہے۔اُسید قبیلہ عبدالا شھل کے ممتاز رؤساء میں سے تھے۔حتی کہ ان کا والد جنگ بعاث میں تمام اوس کا سردار رہ چکا تھا اور سعد بن معاذ کے بعد اُسید بن الحضیر کا بھی اپنے قبیلہ پر بہت اثر تھا۔چنانچہ سعد کے کہنے پر وہ مصعب بن عمیر اور اسعد بن زرارہ کے پاس گئے اور مصعب سے مخاطب ہو کر غصہ کے لہجہ میں کہا۔” تم کیوں ہمارے آدمیوں کو بے دین کرتے پھرتے ہو اُس سے باز آ جاؤ ورنہ اچھا نہ ہوگا۔پیشتر اس کے کہ مصعب کچھ جواب دیتے اسعد نے آہستگی سے مصعب سے کہا کہ یہ اپنے قبیلہ کے ایک با اثر رئیس ہیں ان سے بہت نرمی اور محبت سے بات کرنا؛ چنانچہ مصعب نے بڑے ادب اور محبت کے رنگ میں اُسید سے کہا کہ آپ ناراض نہ ہوں بلکہ مہربانی فرما کر تھوڑی دیر تشریف رکھیں اور ٹھنڈے دل سے ہماری بات سن لیں اور اُس کے بعد کوئی رائے قائم کریں۔“ اُسید اس بات کو معقول سمجھ کر بیٹھ گئے اور مصعب نے انہیں قرآن شریف سنایا اور بڑی محبت کے پیرا یہ میں اسلامی تعلیم سے آگاہ کیا۔اُسید پر اتنا اثر ہوا کہ وہیں مسلمان ہو گئے اور پھر کہنے لگے کہ میرے پیچھے ایک ایسا شخص ہے کہ جو اگر ایمان لے آیا تو ہمارا سارا قبیلہ مسلمان ہو جائے گا۔تم ٹھہرو میں اسے ابھی یہاں بھیجتا ہوں۔یہ کہ کر اُسید اُٹھ کر چلے گئے اور کسی بہانہ سے سعد بن معاذ کو مصعب بن عمیر اور اسعد بن زرارہ کی طرف بھجوا دیا۔سعد بن معاذ آئے اور بڑے غضبناک ہو کر اسعد بن زرارہ سے کہنے لگے کہ دیکھو اسعد تم اپنی قرابت داری کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہو اور یہ ٹھیک نہیں ہے۔اس پر مصعب نے اسی طرح نرمی اور محبت کے ساتھ ان کو ٹھنڈا کیا اور کہا کہ آپ ذرا تھوڑی دیر تشریف رکھ کر میری بات سن لیں اور پھر اگر اس میں کوئی چیز قابل اعتراض ہو تو بے شک رد کر دیں۔سعد نے کہا۔ہاں یہ مطالبہ تو معقول ہے اور اپنا نیزہ ٹیک کر بیٹھ گئے اور مصعب نے اسی طرح پہلے قرآن شریف کی تلاوت کی اور پھر اپنے دلکش رنگ میں اسلامی اصول کی تشریح کی۔ابھی زیادہ دیر نہ گذری تھی کہ یہ بت بھی رام تھا۔چنانچہ سعد نے مسنون طریق پر فسل کر کے کلمہ شہادت پڑھ دیا اور پھر اس کے بعد سعد بن معاذ اور اُسید بن الحضیر دونوں