سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 877 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 877

ALL کے رحم پر ہوتی ہے اسے واپس لوٹانے کے یہ معنی تھے کہ اسے اسلام لانے کے بعد پھر اپنے ہاتھوں سے کفر اور شرک کی طرف لوٹا دیا جائے جو نہ صرف رحم و شفقت بلکہ عدل وانصاف کے جذ بہ سے بھی بعید تھا۔بیشک ایک مرد کو واپس لوٹانے میں بھی اس کے لئے یہ خطرہ تھا کہ مکہ کے کفار سے مختلف قسم کے عذابوں اور دکھوں میں مبتلا کریں گے مگر مرد پھر بھی مرد ہے۔وہ نہ صرف تکلیفوں کا زیادہ مقابلہ کرسکتا ہے بلکہ حسب ضرورت ادھر ادھر چھپ کر یا بھاگ کر یا جتھہ وغیرہ بنا کر اپنے لئے بچاؤ کے کئی رستے کھول سکتا ہے مگر ایک بے بس عورت کیا کر سکتی ہے؟ اس کے لئے ایسے حالات میں یا تو اسلام سے جبری محرومی کی صورت تھی اور یا موت۔اندریں حالات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسی رحیم و کریم ہستی سے بالکل بعید تھا کہ بے کس اور بے بس مسلمان عورتوں کو ظالم کفار کے مظالم کی طرف لوٹا دیتے۔پس جو کچھ کیا گیا وہ نہ صرف معاہدہ کے الفاظ کی رو سے بالکل صحیح اور درست تھا بلکہ عدل وانصاف اور رحم و شفقت کے مسلّمہ اصول کے لحاظ سے بھی عین مناسب اور درست تھا اور اعتراض کرنے والوں کے حصہ میں اس قابل افسوس شرم کے سوا کچھ نہیں آیا کہ انہوں نے مظلوم اور بے بس عورتوں کی حفاظت کے انتظام پر بھی زبان طعن دراز کرنے سے دریغ نہیں کیا۔دوسرا اعتراض ابوبصیر کے واقعہ سے تعلق رکھتا ہے۔مگر غور کرنے سے یہ اعتراض بھی بالکل بودا اور کمزور ثابت ہوتا ہے۔بیشک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ معاہدہ فرمایا تھا کہ کفار مکہ میں سے جو شخص یعنی جو مرد مدینہ بھاگ کر آجائے گا تو وہ خواہ مسلمان ہی ہوگا اسے مدینہ میں پناہ نہیں دی جائے گی اور واپس لوٹا دیا جائے گا مگر سوال یہ ہے کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاہدہ کی خلاف ورزی کی ؟ ہرگز نہیں، ہرگز نہیں۔بلکہ آپ نے اس معاہدہ کے ایفاء کا ایسا کامل اور شان دار نمونہ دکھایا کہ دنیا اس کی نظیر لانے سے عاجز ہے۔غور کرو اور دیکھو کہ ابو بصیر اسلام کی صداقت کا قائل ہوکر مکہ سے بھاگتا ہے اور کفار کے مظالم سے محفوظ ہونے اور اپنا ایمان بچانے کے لئے چھپتا چھپا تا مدینہ میں پہنچ جاتا ہے مگر اس کے ظالم رشتہ دار بھی اس کے پیچھے پیچھے پہنچتے ہیں اور اسے تلوار کے زور سے اسلام کی صداقت سے منحرف کرنے کے لئے جبر اواپس لے جانا چاہتے ہیں۔اس پر یہ دونوں فریق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں۔ابو بصیر بھرائی ہوئی آواز اور سہمے ہوئے انداز میں عرض کرتا ہے کہ یارسول اللہ! مجھے خدا نے اسلام کی نعمت سے نوازا ہے اور مکہ واپس جانے میں جو دکھ اور خطرہ کی زندگی میرے سامنے ہے اسے آپ جانتے ہیں۔خدا کے لئے مجھے واپس نہ لوٹائیں۔مگر اس کے مقابل پر ابوبصیر