سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 876
ALY ان واضح اور غیر مشکوک الفاظ کے ہوتے ہوئے یہ اعتراض کرنا کہ دراصل معاہدہ میں مرد وعورت دونوں مراد تھے صرف بے انصافی ہی نہیں بلکہ انتہائی بددیانتی ہے۔اور اگر یہ کہا جائے کہ تاریخ کی بعض روایتوں میں معاہدہ کے الفاظ میں رجل ( مرد ) کا لفظ مذکور نہیں بلکہ عام الفاظ استعمال کئے گئے ہیں جن میں مرد و عورت دونوں شامل سمجھے جاسکتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو بہر حال مضبوط روایت کو مقدم سمجھا جائے گا اور جب صحیح ترین روایت میں رجل ( مرد ) کا لفظ آتا ہے تو لازماً اس کو صحیح لفظ قرار دینا ہوگا علاوہ ازیں جو الفاظ تاریخی روایت میں آتے ہیں وہ بھی اگر غور کیا جائے تو اسی تشریح کے حامل ہیں جو ہم نے اوپر بیان کی ہے۔مثلاً تاریخ کی سب سے زیادہ مشہور اور معروف کتاب سیرۃ ابن ہشام میں یہ الفاظ آتے ہیں: مَنْ أَتَى مُحَمَّدًا مِنْ قُرَيْشٍ بِغَيْرِ اِذْنِ وَلِيْهِ رَدَّهُ عَلَيْهِمْ یعنی ” جو شخص قریش میں سے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اپنے گارڈین کی اجازت کے بغیر پہنچے گا اسے قریش کی طرف واپس لوٹا دیا جائے گا۔“ عربی کے ان الفاظ میں بے شک ”مرد“ کا لفظ صراحتا بیان نہیں ہوا مگر عربی زبان کا ابتدائی علم رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے کہ عربی میں بخلاف بعض دوسری زبانوں کے عورت اور مرد کے لئے علیحدہ علیحدہ صیغے اور علیحدہ علیحدہ ضمیر میں استعمال ہوتی ہیں اور اوپر کی عبارت میں شروع سے لے کر آخر تک مردوں والے صیغے اور مردوں والی ضمیر میں استعمال کی گئی ہیں۔پس جیسا کہ معاہدوں کی زبانوں کی تشریح کا اصول ہے لازماً اس عبارت میں صرف مرد ہی شامل سمجھے جائیں گے نہ کہ عورت اور مرد دونوں۔بیشک بعض اوقات عام محاورہ میں مردانہ صیغہ بول کر اس سے مرد و عورت دونوں مراد لے لئے جاتے ہیں مگر ظاہر ہے کہ زیر بحث عبارت اس قسم کی عبارت نہیں ہے بلکہ معاہدہ کی عبارت ہے جسے قانون کا درجہ بلکہ اس سے بھی اوپر کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔کیونکہ اس کا ایک ایک لفظ سوچ سمجھ کر رکھا جاتا ہے اور الفاظ کا انتخاب دونوں فریقوں کی جرح اور منظوری کے بعد ہوتا ہے لہذا ایسی عبارت میں لازما و ہی معنی لئے جائیں گے جومحدود ترین اور مخصوص ترین پہلور رکھتے ہوں۔پس اس جہت سے بھی بہر حال یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اس معاہدہ میں صرف مرد شامل تھے نہ کہ مرد اور عورت دونوں۔علاوہ ازیں جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے عورت جو ایک کمزور جنس ہے اور عموماً اپنے خاوند یا مرد رشتہ داروں ل : سیرۃ ابن ہشام ذکر صلح حدیبیہ