سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 878 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 878

ALA کے رشتہ دار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ کا اور ہمارا معاہدہ ہے کہ ہمارا جو آدمی بھی مدینہ آئے گا اسے واپس لوٹا دیا جائے گا۔ابو بصیر کا دکھ اور اپنے صحابہ کی غیرت آپ کی آنکھوں کے سامنے ہے اور خود آپ کے اپنے جذبات آپ کے دل میں تلاطم برپا کر رہے ہیں مگر یہ امانت و دیانت کا مجسمہ اپنے عہد پر چٹان کی طرح قائم رہتے ہوئے فرماتا ہے اور کن پیارے الفاظ میں فرماتا ہے: يَا أَبَابَصِيرِ إِنَّاقَدْ اَعْطَيْنَا هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ مَا قَدْ عَلِمْتَ وَلَا يَصْلَحُ لَنَا فِي دِينِنَا الْعَدْرَوَانَّ اللَّهَ جَاعِلٌ لَكَ وَلِمَنْ مَّعَكَ مِنَ الْمُسْتَضْعَفِينَ خَرَجًا وَّ مَخْرَجًا فَانْطَلِقُ إِلَى قَوْمِكَ یعنی ”اے ابو بصیر ! تم جانتے ہو کہ ہم ان لوگوں کو اپنا عہد و پیمان دے چکے ہیں اور ہمارے مذہب میں عہد شکنی جائز نہیں ہے۔پس تم ان لوگوں کے ساتھ چلے جاؤ۔پھر اگر تم صبر و استقلال کے ساتھ اسلام پر قائم رہو گے تو خدا تمہارے لئے اور تم جیسے دوسرے بے بس مسلمانوں کے لئے خود کوئی نجات کا رستہ کھول دے گا۔“ اس ارشاد نبوی پرابو بصیر مکہ والوں کے ساتھ واپس چلا گیا اور جب وہ مکہ کے رستہ میں اپنے قید کرنے والوں کے ساتھ لڑائی میں غالب ہو کر پھر دوبارہ واپس آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھتے ہی غصہ کے ساتھ فرمایا: وَيْلُ أُمِّهِ مُسْعِرُ حَرُبٍ لَوْ كَانَ لَهُ أَحَدٌ یعنی خرابی ہو اس کی ماں کے لئے۔یہ شخص تو لڑائی کی آگ بھڑکا رہا ہے۔کاش اسے کوئی سنبھالنے والا ہو۔“ یہ الفاظ سنتے ہی ابو بصیر یہ یقین کر لیتا ہے کہ آپ اسے بہر حال واپس لوٹا دیں گے اور مدینہ سے چپکے چپکے نکل آتا ہے اور ایک دور کی علیحدہ جگہ میں اپنا ٹھکانا بنالیتا ہے۔اب اس سارے واقعہ کو انصاف کی نظر سے دیکھو کہ ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور آپ کے خلاف کیا اعتراض ہوسکتا ہے؟ بلکہ حق یہ ہے کہ آپ نے اس معاملہ میں اپنے جذبات کو کچلتے ہوئے معاہدہ کو پورا کیا اور نہ صرف ایک دفعہ بلکہ دو دفعہ ابو بصیر کو واپس لوٹا دیا اور واپس بھی ایسے شان دار الفاظ میں لوٹایا کہ دنیا کی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔آپ نے اپنے جذبات کو کچلا۔اپنے صحابہ کے جذبات کو کچلا اور ابو بصیر کے جذبات کو کچلا اور ہر حال میں معاہدہ کو پورا کیا۔پھر اگر ابو بصیر خود اہل مکہ سے آزاد ہوکر ۲، ۳: بخاری کتاب الشروط لے سیرۃ ابن ہشام