سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 784 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 784

۷۸۴ تَرِبَتْ يَدَاكَ یعنی ایک عورت کے ساتھ چار خیالات کی بنا پر شادی کی جاتی ہے۔یا تو دولت کی وجہ سے بیوی کا انتخاب کیا جاتا ہے اور یا حسب نسب ( یعنی قوم یا خاندان ) کی وجہ سے انتخاب کیا جاتا ہے اور یا حسن و جمال کی وجہ سے انتخاب کیا جاتا ہے اور یا اخلاقی اور دینی حالت کی بنا پر انتخاب کیا جاتا ہے، لیکن اے مرد مومن ! تو ہمیشہ بیوی کا انتخاب دینی اور اخلاقی بنا پر کیا کر اور ذاتی اوصاف اور ذاتی نیکی کے پہلو کو ترجیح دیا کرو ورنہ یا د رکھ کہ تیرے ہاتھ ہمیشہ خاک آلو در ہیں گے۔“ یہ وہ مبارک تعلیم ہے جو نہ صرف مسلمانوں کے گھروں کو جنت کا نمونہ بنا سکتی ہے بلکہ ان کی نسلوں کو بھی دین ودنیا میں ترقی دینے کی بنیاد بنے کا بھاری ذریعہ ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی نمونہ بھی اس معاملہ میں یہ ہے کہ آپ نے اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب بنت جحش کی شادی اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کے ساتھ کر دی تھی اور اس معاملہ میں عربوں کے قدیم رسم ورواج اور خیالات کی قطعاً پروا نہیں کی۔اسی طرح خود آپ نے عربوں کی ہر معروف قوم میں شادی کی یعنی قریش میں بھی کی غیر قریش میں بھی کی اور بنی اسرائیل میں بھی کی اور عرب میں یہی تین قو میں آباد تھیں مگر افسوس ہے کہ آج کل کئی مسلمان اپنی قوم سے باہر شادی کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔مثلاً ایک سیڈ اس بات پر مصر ہوتا ہے کہ اس کی لڑکی صرف سید کے گھر جائے اور ایک راجپوت کا اس بات پر اصرار ہوتا ہے کہ اس کی لڑکی صرف راجپوت کی بیوی بنے اور ایک گلے زئی اس بات پر ضد کر کے بیٹھ جاتا ہے کہ اس کی لڑکی صرف ککے زئی کے ساتھ ہی بیا ہی جائے اور اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زریں تعلیم اور آپ کے مبارک اسوہ کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔مرد و عورت میں حقوق کی مساوات پھر مساوات کی بحث میں مرد عورت کی مساوات کا سوال بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔یعنی جہاں آج کل ایک طبقہ عورت کو نعوذ باللہ جوتی کی طرح اپنے پاؤں کے نیچے رکھنا چاہتا ہے تو وہاں دوسرا طبقہ اسے ایسی آزادی دینے پر تلا ہوا ہے کہ گویا وہ انتظامی لحاظ سے بھی خاوند کی نگرانی سے باہر ہوگئی ہے اور پھر یورپ کا ایک طبقہ تو اسلام کی طرف یہ تعلیم بھی منسوب کرتے ہوئے نہیں شرما تا کہ اسلام عورت میں روح تک کو تسلیم بخاری کتاب النکاح