سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 783
۷۸۳ فَلْيُطْعِمُهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيُلْبِسُهُ مِمَّا يَلْبَسُ وَلَا تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ فَاعِيُنُوهُمْ یعنی ” تمہارے خادم تمہارے بھائی ہیں۔پس جب کسی شخص کے ماتحت اس کا کوئی بھائی ہو تو اسے چاہئے کہ اپنے خادم بھائی کو اس کھانے میں سے کچھ نہ کچھ حصہ دے جو وہ خود کھاتا ہے اور اس لباس میں سے کچھ نہ کچھ حصہ دے جو وہ خود پہنتا ہے اور اے مسلمانو! تم اپنے خادموں کو کوئی ایسا کام نہ دیا کرو جو ان کی طاقت سے زیادہ ہو اور اگر کبھی مجبوراً انہیں کوئی ایسا کام دینا پڑے تو پھر اس کام میں خود بھی ان کی مدد کیا کرو۔“ یہ حدیث جیسا کہ اس کے الفاظ اور اسلوب بیان سے ظاہر ہے ایک نہایت اہم اور اصولی حدیث ہے اور ان کی مدد کیا کرو“ کے الفاظ میں یہ اشارہ بھی ہے کہ کام ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ اگر وہ خود آقا کو کرنا پڑے تو وہ اسے اپنے لئے موجب عار سمجھے بلکہ ایسا ہونا چاہئے کہ جسے خود آقا بھی کر سکتا ہو اور کرنے کو تیار ہو۔گویا اس حدیث میں خادموں کے ساتھ حسن سلوک اور برادرانہ برتاؤ کی تلقین کے علاوہ یہ تعلیم بھی دی گئی ہے کہ کسی مسلمان کے لئے زیبا نہیں کہ وہ کسی کام کو اپنے لئے موجب عار سمجھے یا یہ خیال کرے کہ یہ کام صرف خادم کے کرنے کا ہے میرے کرنے کا نہیں۔چنانچہ ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر قسم کا کام خود اپنے ہاتھ سے کر لیتے تھے اور کسی کام کو عار نہیں سمجھتے تھے۔ہے یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ اوپر کی حدیث میں جو خول کا لفظ آیا ہے وہ عربی محاورہ کے مطابق نوکروں اور خادموں اور غلاموں اور اسی قسم کے دوسرے حاشیہ نشینوں سب پر بولا جاتا ہے۔اس طرح اس حدیث میں گویا ایک نہایت وسیع مضمون مدنظر رکھا گیا ہے۔بہر حال اسلام نے آقاؤں اور خادموں کے تعلقات کو بھی بہترین بنیاد پر قائم کیا ہے۔بیاہ شادی کے معاملات میں اسلامی تعلیم بیاہ شادی کا معاملہ بھی تمدنی تعلقات ہی کا حصہ ہے مگر افسوس ہے کہ دنیا داروں نے اس میدان میں بھی اپنے خیال کے مطابق مختلف طبقے بنارکھے ہیں اور غیر طبقہ میں رشتہ دینے کو موجب ہتک سمجھا جاتا ہے۔سواس کے متعلق ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لَارُبَعٍ لِمَا لِهَا وَ لِحَسَبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِيْنِهَا فَاظُفِرُ بِذَاتِ الدِّيْنِ ل : بخاری کتاب العتق ے بخاری و مسند احمد جلد ششم صفحه ۱۰۶