سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 785
۷۸۵ تعلم نہیں کرتا۔گویا وہ صرف مشین کی طرح کا ایک جانور ہے جس کی زندگی اس کی موت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے مگر قرآن شریف ان سارے باطل خیالات کی تردید فرماتا ہے۔چنانچہ سب سے پہلے تو اسلام ہے دیتا ہے کہ مرد عورت اپنے اعمال کی جد و جہد اور ان کے نتائج کے حصول میں برابر ہیں اور سب کے اعمال کا نتیجہ یکساں نکلنے والا ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے: أَنِّي لَا أَضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ یعنی ”اے لوگو! میں جو تمہارا خالق و مالک ہوں میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کرتا خواہ وہ مرد ہو یا عورت کیونکہ تم سب ایک ہی نسل کے حصے اور ایک ہی درخت کی شاخیں ہو۔“ اور خاوند بیوی کے مخصوص حقوق کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَلَيْهِنَّ یعنی ” جس طرح خاوندوں کے بعض حقوق بیویوں کے ذمہ ہیں اسی طرح بیویوں کے بعض حقوق خاوندوں کے ذمہ بھی ہیں۔“ اس قرآنی آیت کا مطلب یہ ہے کہ حقوق اور ذمہ داریوں کے معاملہ میں میاں بیوی برابر ہیں کہ کچھ پابندیاں خاوند کے ذمہ لگا دی گئی ہیں اور کچھ پابندیاں بیوی کے ذمہ لگا دی گئی ہیں اور دونوں اپنی اپنی ذمہ داریوں کے متعلق پوچھے جائیں گے۔مگر چونکہ انتظامی لحاظ سے گھریلو زندگی کی باگ ڈور بہر حال ایک ہاتھ میں رہنی ضروری ہے اس لئے اس جہت سے قرآن شریف فرماتا ہے: الرِّجَالُ قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصُّلِمتُ قُنِتُت - - یعنی گھریلو زندگی میں مردوں کو عورتوں پر امیر اور نگران رکھا گیا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے فطری قومی میں مردوں کو فضیلت عطا کی ہے اور پھر عورتوں کے اخراجات کی ذمہ داری بھی انہی پر ہے۔پس نیک بیویوں کو بہر حال اپنے خاوندوں کا فرمانبردار رہنا چاہئے۔“ لیکن اس انتظامی فرق کو ایک طرف رکھتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیویوں کے ساتھ سلوک ا : آل عمران : ۱۹۶ : سورة البقره : ۲۲۹ : سورة النساء : ۳۵