سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 767 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 767

میں نیکی کی صحیح تعریف قائم کی ہے اور وہی وہ بزرگ ہستی ہے جس نے ہر میدان میں اعلیٰ ترین اخلاق کا اظہار کیا ہے اور اعتراض کرنے والے محض جہالت اور کو نہ بینی سے اعتراض کرتے ہیں۔جنگ میں اپنی نقل و حرکت کو دشمن سے چھپانا یا کامیاب نتائج پیدا کرنے کے لئے مناسب تدابیر اختیار کرنا نہ صرف ایک بالکل جائز فعل ہے بلکہ فنون جنگ کے لحاظ سے نہایت ضروری اور واجبی ہے اور اگر کوئی جرنیل ایسی تدابیر اختیار نہیں کرتا تو وہ اعلیٰ اخلاق کا مالک تو پھر بھی نہیں کہلا سکتا مگر یقیناً وہ پر لے درجہ کا بے وقوف جرنیل ضرور سمجھا جائے گا جسے بالکل ابتدائی اور اصولی تدابیر جنگ کا بھی علم نہیں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس قسم کی تدابیر اختیار نہ فرماتے اور جنگوں میں مخفی رکھنے والی تدابیر کو کھلے بندوں کرتے تو پھر یہی معترض لوگ آپ پر یہ اعتراض کرتے کہ آپ فنون جنگ سے بالکل بے بہرہ اور حسن تدبیر کی صفت سے بالکل محروم تھے۔یہ ایک قیاس ہی نہیں بلکہ بعض غیر مسلم مؤرخین نے بعض اسلامی مہموں کی ظاہری ناکامی پر واقعی اس قسم کے اعتراضات کئے ہیں کہ بعض موقعوں پر مسلمانوں کا ایسی حالت میں دشمن کی قیام گاہ تک پہنچنا کہ وہ ان کی خبر پا کر پہلے سے منتشر ہو چکا ہوتا تھا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اسلامی مہموں میں سوئے تدبیر سے کام لیا جاتا تھا۔حالانکہ کبھی کسی مہم میں ایسا ہو جانا سوئے تدبیر کی علامت نہیں بلکہ صرف اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ دشمن بھی اپنی جگہ ہوشیار اور چوکس تھا اور باوجود مسلمانوں کی ہوشیاری اور بیدار مغزی کے وہ کبھی کبھی شرارت کر کے اپنی شرارت کی سزا سے بچ جاتا تھا۔مگر پھر بھی مجموعی نتیجہ بہر حال اسلام کے حق میں پیدا ہورہا تھا۔مخالفین اسلام کی یہ ذہنیت اس بات کے سوا کچھ ثابت نہیں کرتی کہ انہوں نے ہر حال میں اعتراض کا فیصلہ کر رکھا ہے یعنی مسلمان اگر بیداری مغزی اور حسن تدبیر کا اظہار کریں تو تب یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اسلام ہوشیاری اور چالا کی کی تعلیم دیتا ہے اور اگر وہ کبھی دشمن کی ہوشیاری اور چالا کی کا نشانہ بن جائیں تو تب یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اسلام میں بیدار مغزی اور حسن تدبیر کا فقدان تھا۔اس ذہنیت کا علاج سوائے خدا کے اور کسی کے پاس نہیں۔مگر یہ ایک شکر کی بات ہے کہ اس قسم کے جاہلانہ اعتراض صرف بے وقوف اور ادنی طبقہ کے لوگوں کی طرف سے کئے جاتے ہیں اور سمجھ دار لوگ اس بات کو جانتے اور تسلیم کرتے ہیں کہ سچا مذ ہب روحانیت کی ترقی کے ساتھ ساتھ انسانی عقل کو بھی تیز کرتا ہے اور یہ کہ اسلام کا مقدس بانی صداقت اور دیانت کے ساتھ ساتھ حسن تدبیر کا بھی مجسمہ تھا۔اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّمْ۔خلاصہ کلام یہ کہ جنگ میں اپنی حرکات وسکنات کو چھپا کر یا اسی قسم کی اور مناسب احتیاطی تدابیر