سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 768 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 768

۷۶۸ اختیار کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قطعاً کسی نا جائز یا خلاف اخلاق بات کا ارتکاب نہیں کیا بلکہ حق یہ ہے کہ یہ تدابیر آپ کی دور اندیشی اور بیدار مغزی کی دلیل ہیں اور جو شخص ان باتوں پر اعتراض کرتا ہے۔وہ خود اپنی جہالت کا ثبوت دیتا ہے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ توریہ ( یعنی پردہ رکھنا ) اور کذب بیان ( یعنی جھوٹ بولنا) میں زمین آسمان کا فرق ہے اور کوئی عقل مند ان دونوں کو ایک نہیں قرار دے سکتا۔تو ریہ کے معنی چھپانے کے ہیں یعنی ایسے رنگ میں بات کرنا کہ مصلحت وقت کے ماتحت کسی بات کو پردہ میں رکھا جائے تاکہ فتنہ کی صورت پیدا نہ ہو لیکن کذب کے معنی خلاف واقعہ بات بیان کرنے اور جھوٹ بولنے کے ہیں اور ان دونوں مفہوموں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ہر شخص اپنی روز مرہ کی زندگی میں سینکڑوں باتوں کو چھپاتا ہے۔کوئی شرم وحجاب کی وجہ سے اور کوئی فتنہ کی روک تھام کی بنا پر اور کسی جائز غرض کے ماتحت۔لیکن آج تک کسی عقل مند نے اس طریق پر اعتراض نہیں کیا بلکہ اسے ایک بہت اچھا خلق سمجھا جاتا ہے مگر کذب بیانی اور دروغ گوئی بالکل اور چیز ہے جو ہر شریف انسان کے نزدیک ایک مکروہ اور ناجائز فعل ہے اور اسلام نے تو اسے نہایت سختی سے روکا اور حرام قرار دیا ہے۔حتی کہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ اس وقت آپ ایک مجلس میں تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔آپ نے پہلے شرک اور والدین کی نافرمانی کا ذکر فرمایا اور پھر بڑے جوش کے ساتھ یہ کہتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گئے کہ: الا وَقَوْلَ النُّورِ۔اَلا وَقَوْلَ النُّورِ یعنی ” کان کھول کر سن لو! ہاں پھر کان کھول کر سن لو کہ ان کے بعد سب سے بڑا گناہ جھوٹ بولنا ہے۔راوی کہتا ہے کہ آپ نے یہ الفاظ اس جوش کے ساتھ بار بار دہرائے کہ ہم نے آپ کی تکلیف کا خیال کر کے دل میں کہا کہ کاش آپ آب خاموش ہو جائیں اور اس نصیحت کے دہرانے میں اتنی تکلیف نہ اٹھا ئیں۔غزوہ بنولحیان کے کچھ عرصہ بعد سریه زید بن حارثه به جانب طرف جمادی الآخرة ۶ ہجری جمادى الآخرة ۶ ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ کی کمان میں پندرہ صحابیوں کا ایک دستہ طرف کی جانب روانہ بخاری کتاب الشهادات