سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 759 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 759

۷۵۹ مسلمان کسی مشرک عورت کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتا اور نہ کسی مسلمان عورت کا نکاح کسی مشرک مرد کے ساتھ ہوسکتا ہے۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے۔لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكْتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلَا تَتَّكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوال یعنی ”اے مسلمانو ! تم مشرک عورتوں کے ساتھ نکاح نہ کیا کرو یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو جائیں اور نہ ہی تم مسلمان عورتوں کا نکاح مشرک مردوں کے ساتھ کیا کر وحتی کہ وہ مسلمان ہو جائیں۔“ لیکن اس حکم میں یہ تصریح نہیں تھی کہ اگر نکاح پہلے سے ہو چکا ہوتو پھر کیا کیا جائے۔سواس کے متعلق صلح حدیبیہ کے بعد سورۃ ممتحنہ والی آیات نازل ہوئیں جن میں یہ حکم دیا گیا کہ ایک مسلمان عورت کا کسی صورت میں بھی ایک مشرک مرد کے ساتھ نکاح قائم نہیں رہ سکتا اور نہ کسی مسلمان کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ کسی مشرک عورت کو اپنے نکاح میں رکھے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَ كُمُ الْمُؤْمِنُتُ مُهْجِرْتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ۔۔۔۔وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ یعنی اے مسلمانو! اگر تمہارے پاس مومن عورتوں میں سے بعض عورتیں ہجرت کر کے پہنچیں تو تم انہیں کافروں کی طرف نہ لوٹاؤ کیونکہ مسلمان ہونے کے بعد وہ کافروں کے لئے جائز نہیں رہیں۔اور نہ کافر مرد مسلمان عورتوں کے لئے جائز ہیں۔۔۔اور اگر اے مسلمانو! تمہارے نکاح میں کوئی کافر (مشرک) عورت ہو تو تم اس کے عقد نکاح کو بھی قائم نہیں رکھ سکتے۔“ 66 اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری ایام میں سورۃ مائدہ والی آیات نازل ہوئیں۔جن میں اس بات کی صراحت کی گئی کہ ایک اہل کتاب عورت (یعنی یہودی یا عیسائی وغیرہ) کے ساتھ مسلمان مرد کا نکاح ہو سکتا ہے۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے: الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَتُ والمُحْصَنَتُ مِنَ الْمُؤْمِنتِ وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ یعنی ”اے مسلمانو! آج کے دن تمہارے لئے تمام پاکیزہ چیز میں حلال قرار دی گئی ہیں۔۔۔۔۔ل : سورة البقرة : ۲۲۲ : سورۃ الممتحنه : 11 سے : سورة المائدة : ۶