سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 758
۷۵۸ اطلاع بھجوادی کہ میں اس طرح قید ہو کر یہاں پہنچ گیا ہوں تم اگر میرے لئے کچھ کرسکتی ہو تو کرو۔چنانچہ عین اس وقت کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ صبح کی نماز میں مصروف تھے زینب نے گھر کے اندر سے بلند آواز سے پکار کر کہا کہ ”اے مسلمانو! میں نے ابوالعاص کو پناہ دی ہے۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو صحابہ کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا۔جو کچھ زینب نے کہا ہے وہ آپ لوگوں نے سن لیا ہوگا۔واللہ مجھے اس کا علم نہیں تھا۔مگر مومنوں کی جماعت ایک جان کا حکم رکھتی ہے اگر ان میں سے کوئی کسی کافر کو پناہ دے تو اس کا احترام لازم ہے۔پھر آپ نے زینب کی طرف 166 متوجہ ہو کر فرمایا ” جسے تم نے پناہ دی ہے اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں۔اور جو مال اس مہم میں ابو العاص سے حاصل ہوا تھا وہ اسے لوٹا دیا۔پھر آپ گھر میں تشریف لائے اور اپنی صاحبزادی زینب سے فرمایا ”ابوالعاص کی اچھی طرح خاطر تواضع کرو۔مگر اس کے ساتھ خلوت میں مت ملو کیونکہ موجودہ حالت میں تمہارا اس کے ساتھ ملنا جائز نہیں ہے۔چند روز مدینہ میں قیام کر کے ابو العاص مکہ کی طرف واپس چلے گئے مگر اب ان کا مکہ میں جانا وہاں ٹھہرنے کی غرض سے نہیں تھا کیونکہ انہوں نے بہت جلد اپنے لین دین سے فراغت حاصل کی اور کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ کر مسلمان ہو گئے۔جس پر آپ نے حضرت زینب کو ان کی طرف بغیر کسی جدید نکاح کے لوٹا دیا یعنی زینب کو اجازت دے دی کہ اب وہ ان کے ساتھ ازدواجی تعلقات رکھ سکتی ہیں۔۔بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ اس وقت حضرت زینب اور ابو العاص کا دوبارہ نکاح پڑھا گیا تھا مگر پہلی روایت زیادہ مضبوط اور صحیح ہے۔" ایک مسلمان اور کافر کے ازدواجی تعلق کے متعلق اسلامی تعلیم اس جگہ ضمنا یہ ذکر خالی از فائدہ نہ ہوگا کہ ایک مسلمان اور کافر کے باہمی نکاح کے بارے میں قرآنی احکام تین مختلف موقعوں پر درجہ بدرجہ نازل ہوئے ہیں۔سب سے پہلے ہجرت کے کچھ عرصہ بعد سورۃ بقرہ کی آیات نازل ہوئیں جن میں یہ حکم دیا گیا کہ کوئی۔مراد یہ ہے کہ عام حالات میں ایسا ہونا چاہئے ورنہ خاص حالات میں جب کہ مثلا کسی بالا افسر کا کوئی اور حکم موجود ہو یا پناہ دینے والا بد نیتی یا فساد کی غرض سے یہ طریق اختیار کرے وغیر ذالک تو ایسے حالات میں یہ فعل جائز نہیں سمجھا جائے گا۔واللہ اعلم طبقات ابن سعد وزرقانی حالات سریہ عیص ابوداؤ دوتر مذی وابن ماجه زرقانی