سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 62
۶۲ بدوی خون تھا اس نے سامنے سے جواب دیا۔”یہ ہمارے مہمان کی اونٹنی ہے جہاں میری اونٹنیاں چریں گی وہیں یہ بھی چرے گی۔کلیب نے کہا۔”اچھا تو اگر مجھے یہ اونٹنی پھر یہاں نظر آئے گی تو میں اس کے شیر دان میں تیر مار کر اسے ہلاک کر دوں گا۔جساس بولا۔اگر تو نے ایسا کیا تو مجھے بھی وائل کے جُجوں کی قسم ہے کہ میں خود تیرا سینہ تیر سے چھید کر رکھ دوں گا۔“ یہ کہہ کر جساس وہاں سے چلا گیا اور کلیب سخت غضب کی حالت میں اپنے گھر آیا اور اپنی بیوی حلیلہ سے کہنے لگا۔” کیا تو کسی ایسے آدمی کو جانتی ہے جو میرے مقابل پر اپنے پڑوسی کی حفاظت کی جرات کرے گا۔اس نے کہا۔ایسا تو کوئی نہیں مگر ہاں میرا بھائی جساس ہے اگر وہ اپنے منہ سے کوئی بات کہ بیٹھے تو وہ اسے ضرور پورا کرے گا۔“ اس کے بعد حلیلہ نے اپنی طرف سے اس جھگڑے کو روکنے کی بہت کوشش کی ، مگر کامیاب نہ ہوسکی آخر ایک دن جب کلیب اپنے اونٹوں کو پانی پلا رہا تھا، اتفا قاجناس بھی اوپر سے اپنے اونٹ لے آیا اور مزید اتفاق ایسا ہوا کہ اس کے گلے سے وہی سعد کی اونٹنی چھوٹ کر کلیب کے اونٹوں میں آ کر پانی پینے لگ گئی۔کلیب نے اسے دیکھا اور خیال کیا کہ جناس نے دیدہ دانستہ اسے چھوڑا ہے اس پر اس نے اپنی کمان لی اور اس کے شیردان میں تیر مارا جو سیدھا اپنے نشانہ پر بیٹھا اور سعد کی اونٹنی تڑپتی اور چلاتی ہوئی دوڑی اور جساس کی خالہ بسوس کے دروازے کے سامنے پہنچ کر گر گئی۔بسوس نے یہ نظارہ دیکھ کر اپنا سر پیٹنا شروع کر دیا۔اور زور سے چلا چلا کر کہا۔” شرم شرم ! ہم ذلیل کئے گئے اور ہمارے مہمان کی اونٹنی مار دی گئی۔جساس نے یہ الفاظ سنے تو شرم اور غیرت سے کٹ گیا اور غضب میں آ کر اس نے کلیب کو قتل کر دیا۔کلیب کے قتل نے قبیلہ تغلب میں آگ لگا دی اور اپنے سردار کے انتقام کے لئے وہ ایک جان ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے جس کے نتیجہ میں قبائل تغلب اور بکر میں وہ خطرناک لڑائیاں ہوئیں اور ا تنا قتل وخون ہوا کہ خدا کی پناہ۔آخر چالیس سال کے بعد جب دونوں قبائل کٹ کٹ کر کمزور ہو گئے تو ریاست حیرہ کے بادشاہ مُنذ رثالث کے ذریعہ سے ان میں پھر صلح ہوئی۔یہ جنگ تاریخ عرب میں جنگ بسوس کے نام سے مشہور ہے۔عرب کے جنگوں میں عام طور پر تاریعنی انتقام کا بڑا دخل ہوتا تھا۔ٹار کا عقیدہ گویا عرب کے دین و مذہب کا جز واعظم تھا۔ان کا ایمان تھا کہ جب تک بدلہ نہ لے لیا جاوے مقتول کی روح ایک جانور کی صورت اختیار کر کے ہوا میں نوحہ کرتی پھرتی ہے اس جانور کو عرب لوگ صدی کہتے تھے۔جب کسی قبیلے کا : تاریخ کامل ابن اثیر۔