سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 63
۶۳ کوئی آدمی مارا جا تا تو اس کے رشتہ داروں اور اہلِ قبلہ کا یہ فرض ہو جا تا تھا کہ قاتل یا اس کے کسی رشتہ دار یا اس کے قبیلہ کے کسی آدمی کو اس کے بدلے میں قتل کریں۔مقتول کے بدلے میں دیت یعنی خون بہا لینے کا بھی رواج تھا، مگر اس میں مالی پہلو اتنا متصور نہ تھا جتنا یہ کہ قاتل کا قبیلہ ذلیل اور شرمندہ ہو کر مقتول کا خون بہا ادا کرے لیکن عموماً جب تک مقتول کا بدلہ قتل کے ساتھ نہ لے لیا جاتا۔اس وقت تک اس کے رشتہ داروں کے دلوں میں ایک آگ سی لگی رہتی تھی جسے صرف قاتل کا خون ہی بجھا سکتا تھا، لیکن جب ایک طرف کی آگ بجھ جاتی تھی تو دوسری طرف یہی آگ بھڑک اٹھتی تھی اور اس طرح یہ سلسلہ ایسا وسیع ہوتا چلا جاتا تھا کہ بعض اوقات قبیلے کے قبیلے اس میں بھسم ہو جاتے تھے۔صرف قاتل کو مار دینے تک مقتول کا انتقام ختم نہ ہوتا تھا بلکہ مُردوں کے ہاتھ پاؤں کان ناک وغیرہ کاٹ کر بھی اپنے دل کو ٹھنڈا کیا جاتا تھا۔اس طریق کو عربوں میں مثلہ کہتے تھے اور عرب کی جنگوں میں اس کا عام رواج تھا۔چنانچہ ہم آگے چل کر دیکھیں گے کہ جنگِ اُحد میں ابوسفیان کی بیوی ہندہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ کے ساتھ جنہوں نے جنگ بدر میں اس کے باپ عتبہ کو قتل کیا تھا یہی سلوک کیا بلکہ نہایت بیدردی کے ساتھ آپ کا جگر نکال کر چبا گئی۔عورتیں اور بچے جو جنگ میں قید ہو کر آتے تھے ان کو قتل کر ڈالنے میں بھی عربوں کو دریغ نہ ہوتا تھا۔انتقام پورا کرنے کے واسطے مردوں کی کھوپڑیوں میں شراب پینا ، نیزہ مار کر حاملہ عورتوں کا حمل گرا دینا ، غفلت کی حالت میں سوتے ہوئے آدمیوں پر حملہ کر کے ماردینا وغیر ذالک یہ ایسی باتیں تھیں جن کو عرب کی سوسائٹی عموماً نا جائز نہیں سمجھتی تھی۔جنگوں میں عرب کا دستور تھا کہ ایک اونچی جگہ پر آگ جلا دیتے تھے اور دورانِ جنگ میں اسے برابر جلتا رکھتے تھے اور اس کے بجھ جانے کو بُری فال خیال کرتے تھے ؛ چنانچہ آگے چل کر ہم دیکھیں گے کہ جب جنگ احزاب میں کسی وجہ سے ایک افسر کی آگ بجھ گئی تو وہ گھبرا کر رات کے وقت اکیلا ہی میدانِ جنگ سے بھاگ نکلا جس کی وجہ سے باقی فوج میں بھا گڑ پڑ گئی۔جنگ میں عموماً عورتیں بھی ساتھ جاتی تھیں جن کا کام یہ ہوتا تھا کہ غیرت اور جوش دلانے کے شعر پڑھ پڑھ کر آتش عرب کو بھڑکاتی رہیں۔زخمیوں کی نگہداشت بھی عموماً عورتیں ہی کرتی تھیں ؛ چنانچہ یہ رسم ایک حد تک اسلام میں بھی قائم رہی۔لڑائی میں یہ عام دستور تھا کہ پہلے ایک ایک آدمی کا انفرادی مقابلہ ہوتا تھا اور پھر عام دھاوا ہو جاتا