سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 61 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 61

บ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کی مدح میں ایک قصیدہ کہہ کر لایا جو آجکل بانَتْ سُعاد کے نام سے مشہور ہے۔اس کے شروع میں بھی شاعر اپنی محبوبہ ہی کی جدائی کا ڈ کھڑا روتا ہے۔بے حیائی کا یہ عالم تھا کہ بعض اوقات خود مالک اپنی لونڈیوں سے بدکاری کرواتے اور اس کی آمد وصول کرتے تھے۔یہ بھی گویا ایک آمد کا ذریعہ تھا، مگر شرفاء کا دامن اس قسم کی انتہائی بے حیائی سے پاک تھا۔جہالت اور بے جا جوش و خروش کا عرب میں یہ حال تھا کہ بات بات پر تلوار چل جاتی تھی۔تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ بعض اوقات ایک ذراسی بات پر دو قبیلوں میں جنگ شروع ہوئی پھر آہستہ آہستہ بعض دوسرے قبائل بھی شریک ہو گئے اور سالہا سال تک قتل و غارت کا سلسلہ جاری رہا۔ذیل کا واقعہ ایام عرب کی تاریخ کا ایک معمولی ورق ہے۔پانچویں صدی عیسوی کے آخر میں کلیب بن ربیعہ ایک بڑا طاقتور اور صاحب اثر رئیس گذرا ہے یہ قبیلہ بنو تغلب بن وائل کا سردار تھا جو عرب کے شمال مشرق میں رہتے تھے۔کلیب کی بیوی حلیلہ بنت مرة قبیلہ بنو بکر بن وائل سے تھی۔اس حلیلہ کا ایک بھائی تھا جس کا نام جساس تھا جو اپنی خالہ بسوس کے ساتھ رہا کرتا تھا۔اب اتفاق ایسا ہوا کہ بسوس کے پاس ایک شخص سعد نا می بطور مہمان آ کر ٹھہرا۔سعد کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام سراب تھا۔۔۔۔۔جو بوجہ تعلقات رشتہ داری کے کلیب کی چراگاہ میں جستاس کی اونٹنیوں کے ساتھ مل کر چرا کرتی تھی۔ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ کلیب ایک درخت کے نیچے سے گذر رہا تھا کہ درخت کے اوپر سے اس کو ایک پرندے کی آواز آئی۔کلیب نے اوپر نظر اٹھا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک پرندے نے اس درخت پر ایک گھونسلا بنا کر اس میں انڈے دے رکھے تھے۔کلیب نے اس پرندے کی طرف اپنے سردارانہ بددی انداز میں دیکھا اور بولا ” کسی سے مت ڈر میں تیری حفاظت کروں گا۔“ دوسرے دن جب کلیب وہاں سے گذرا تو اس نے دیکھا کہ انڈے درخت سے نیچے گرے پڑے ہیں اور کسی جانور کے پاؤں سے مسلے ہوئے ہیں اور پرندہ اوپر درد بھری آواز نکال رہا ہے۔کلیب کو اپنی کل کی بات یاد آئی اور اس کی آنکھوں میں خُون اُتر آیا۔اس نے ادھر اُدھر نظر کی تو سعد کی اونٹنی چر رہی تھی۔کلیب نے خیال کیا کہ ضرور انڈے اسی اونٹنی نے توڑے ہوں گے غصہ سے مغلوب ہو کر وہ اپنے سالے جناس کے پاس آیا اور کہنے لگا۔" دیکھو جناس ! اس وقت میرے دماغ میں ایک خیال ہے اگر مجھے اس کا یقین ہو تو میں کچھ کر گذروں۔مگر دیکھو آئندہ سعد کی یہ اونٹنی اس گلے کے ساتھ یہاں نہ چرا کرے۔‘ جساس کی رگوں میں بھی عرب کا