سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 751
۷۵۱ تھوڑا کھانا کھایا ہے۔یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا۔صبح تک شمامہ کافروں کی طرح کھانا کھاتا تھا اور اب اس نے ایک مسلمان کی طرح کھایا ہے۔“ اور آپ نے اس کی تشریح یوں فرمائی کہ ” کا فرسات آنتوں میں کھانا کھاتا ہے مگر مسلمان صرف ایک آنت میں کھاتا ہے۔“ اس سے آپ کی مراد یہ تھی کہ جہاں ایک کا فرتو دنیوی لذات میں انہاک ہوتا ہے اور گویاوہ اسی میں غرق رہتا ہے وہاں ایک سچا مسلمان اپنی جسمانی ضروریات کو صرف اس حد تک محدود رکھتا ہے جو زندگی کے قیام کے لئے ضروری ہے کیونکہ اسے حقیقی لذت صرف دین میں حاصل ہوتی ہے۔یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ اس جگہ سات کے عدد سے حسابی عدد مراد نہیں ہے بلکہ عربی محاورہ کی رو سے سات کا عدد کثرت اور تکمیل کے اظہار کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔گویا مراد یہ ہے کہ ایک کا فرد نیوی لذات میں غرق رہتا ہے اور اس کی ساری توجہ دنیا میں صرف ہوتی ہے مگر ایک مومن اپنے آپ کو دنیوی لذات سے روک کر رکھتا ہے اور ضرورت حقہ کی حد سے آگے نہیں گزرتا کیونکہ اس کی حقیقی لذات کا میدان اور ہے۔یہ تعلیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فطری میلان اور آپ کے ذاتی خلق کا ایک نہایت سچا آئینہ ہے۔مسلمان ہونے کے باعث ثمامہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ ! جب آپ کے آدمیوں نے مجھے قید کیا تھا تو اس وقت میں خانہ کعبہ کے عمرہ کے لیے جا رہا تھا اب مجھے کیا ارشاد ہے؟ آپ نے اس کی اجازت مرحمت فرمائی اور دُعا کی اور ثمامہ مکہ کی طرف روانہ ہو گیا۔وہاں پہنچ کر ثمامہ نے جوشِ ایمان میں قریش کے اندر بر ملا تبلیغ شروع کر دی۔قریش نے یہ نظارہ دیکھا تو اُن کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور انہوں نے ثمامہ کو پکڑ کر ارادہ کیا کہ اسے قتل کر دیں۔مگر پھر یہ سوچ کر کہ وہ یمامہ کے علاقے کا رئیس ہے اور یمامہ کے ساتھ مکہ کے گہرے تجارتی تعلقات ہیں وہ اس ارادہ سے باز آگئے اور ثمامہ کو برا بھلا کہہ کر چھوڑ دیا مگر شمامہ کی طبیعت میں سخت جوش تھا اور قریش کے وہ مظالم جو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ پر کرتے رہے تھے وہ سب ثمامہ کی آنکھوں کے سامنے تھے۔اس نے مکہ سے رخصت ہوتے ہوئے قریش سے کہا۔” خدا کی قسم آئندہ یمامہ کے علاقہ سے تمہیں غلہ کا ا: ابن ہشام جلد ۳ صفحه ۹۱ س : عمرہ حج کی ایک قسم ہے جس میں حج کے بعض مراسم اور شرائط کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔یہ ایک نفلی عبادت ہے جس کی ادائیگی فرائض میں داخل نہیں۔آج کل انگریزی محاورہ میں اسے چھوٹا حج کہتے ہیں بخاری ومسلم تاج العروس ۵: ابن ہشام جلد ۳ صفحه ۹۲