سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 750
۷۵۰ مدینہ پہنچ کر جب ثمامہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے اسے دیکھتے ہی پہچان لیا اور محمد بن مسلمہ اور ان کے ساتھیوں سے فرمایا۔جانتے ہو یہ کون شخص ہے؟ انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا جس پر آپ نے ان پر حقیقت حال ظاہر کی۔اس کے بعد آپ نے حسب عادت ثمامہ کے ساتھ نیک سلوک کئے جانے کا حکم دیا اور پھر اندرون خانہ تشریف لے جا کر گھر میں ارشاد فرمایا کہ جو کچھ کھانے کے لئے تیار ہو شمامہ کے لئے باہر بھجوا دو اس کے ساتھ ہی آپ نے صحابہ سے یہ ارشاد فرمایا کہ ثمامہ کو کسی دوسرے مکان میں رکھنے کی بجائے مسجد نبوی کے صحن میں ہی کسی ستون کے ساتھ باندھ کر قید رکھا جائے جس سے آپ کی غرض یہ تھی کہ تا آپ کی مجالس اور مسلمانوں کی نماز میں شمامہ کی آنکھوں کے سامنے منعقد ہوں اور اس کا دل ان روحانی نظاروں سے متاثر ہو کر اسلام کی طرف مائل ہو جائے۔ان ایام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر روز صبح کے وقت ثمامہ کے قریب تشریف لے جاتے اور حال پوچھ کر دریافت فرماتے کہ تمامہ ! بتاؤ اب کیا ارادہ ہے ؟ تمامہ جواب دیتا اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم ) اگر آپ مجھے قتل کر دیں تو آپ کو اس کا حق ہے کیونکہ میرے خلاف خون کا الزام ہے لیکن اگر آپ احسان کریں تو آپ مجھے شکر گزار پائیں گے اور اگر آپ فدیہ لینا چاہیں تو میں فدیہ دینے کے لئے بھی تیار ہوں۔تین دن تک یہی سوال و جواب ہوتا رہا۔آخر تیسرے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے از خود صحابہ سے ارشاد فرمایا کہ ثمامہ کو کھول کر آزاد کر دو۔“ صحابہؓ نے فوراً آزاد کر دیا اور ثمامہ جلدی جلدی مسجد سے نکل کر باہر چلا گیا۔غالباً صحابہ یہ سمجھے ہوں گے کہ اب وہ اپنے وطن کی طرف واپس لوٹ جائے گا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ چکے تھے کہ ثمامہ کا دل مفتوح ہو چکا ہے۔چنانچہ وہ ایک قریب کے باغ میں گیا اور وہاں سے نہا دھو کر واپس آیا اور آتے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر مسلمان ہو گیا۔اس کے بعد اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۔'یا رسول اللہ ایک وقت تھا کہ مجھے تمام دنیا میں آپ کی ذات سے اور آپ کے دین سے اور آپ کے شہر سے سب سے زیادہ دشمنی تھی لیکن اب مجھے آپ کی ذات اور آپ کا دین اور آپ کا شہر سب سے زیادہ محبوب ہیں۔۔اس دن شام کو جب حسب دستور ثمامہ کے لئے کھانا آیا تو اس نے تھوڑا سا کھانا کھا کر چھوڑ دیا۔جس پر صحابہ نے تعجب کیا کہ آج صبح تک تو ثمامہ بہت زیادہ کھاتا رہا ہے اور گویا پیٹو تھا لیکن اب اس نے بہت ا: ابن ہشام جلد ۳ صفحه ۹۱ ۲: زرقانی جلد ۲ صفحه ۱۴۵ بخاری کتاب المغازی باب وفد بنی حنیفہ و مسلم کتاب الجہاد باب ربط الاسیر